اتوار, مارچ 8, 2026
اشتہار

مرید کے پُرتشدد احتجاج : سعد رضوی سمیت مقامی قیادت و کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج

اشتہار

حیرت انگیز

راولپنڈی: مرید کے میں پرتشدد احتجاج پر سعد رضوی سمیت ٹی ایل پی کی مقامی قیادت اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیر حافظ سعد حسین رضوی سمیت مقامی قیادت اور کارکنوں کے خلاف پرتشدد احتجاج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے الزام میں تھانہ روات اور تھانہ ٹیکسلا میں مقدمات درج کرلیے گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ مقدمات میں دہشت گردی، اقدامِ قتل، ڈکیتی، کارِ سرکار میں مداخلت اور عوام کو اکسانے سمیت سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر سب انسپکٹر نجیب اللہ کی مدعیت میں درج کی گئی، جس میں کہا ہے کہ سعد حسین رضوی کی کال پر چک بیلی روڈ پر پابندی کے باوجود احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے شاہراہ عام بلاک کی، پولیس پر سیدھی فائرنگ کی اور ایمونیشن چھین لیا۔

ایف آئی آر میں کہنا تھا کہ واقعے کے دوران قاری بلال، قاری ابرار، قاری دانش سمیت 21 رہنماؤں و کارکنوں کو نامزد جبکہ 35 نامعلوم افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ مظاہرین اسلحہ، پٹرول بم اور کیلوں والے ڈنڈوں سے لیس تھے۔ فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل عدنان بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا، جبکہ اہلکار نذیر پر تشدد کرکے آنسو گیس کے 150 شیل چھین لیے گئے اور وردی پھاڑ دی گئی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ موقع سے 10 کیلوں والے ڈنڈے، 4 پٹرول بم، ٹی ایل پی کے جھنڈے، پتھر اور گولیوں کے خول برآمد ہوئے۔

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے ٹی ایل پی قیادت کی ایما پر تشدد، فائرنگ اور مزاحمت کی۔

علاوہ ازیں، تھانہ ٹیکسلا میں بھی سعد رضوی اور دیگر مقامی رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت علیحدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں سڑکیں بلاک کرنے، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس پر حملوں کی دفعات شامل ہیں۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں