The news is by your side.

Advertisement

صاف پانی کمپنی اسکینڈل سے متعلق مزید انکشافات سامنے آگئے

لاہور: صوبہ پنجاب کی صاف پانی کمپنی اسکینڈل سے متعلق مزید انکشافات سامنے آگئے۔ پلانٹس کا ٹھیکہ دینے میں 11 اہم شخصیات کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا معلوم ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ صاف پانی کمپنی اسکینڈل میں مزید بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے پلانٹس کا ٹھیکہ دینے میں 11 اہم شخصیات مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ بہاولپور میں 116 واٹر پلانٹس لگانے کا ٹھیکہ مہنگے داموں دیا گیا۔

نیب ذرائع کے مطابق ٹھیکوں کی حتمی منظوری وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے دی جبکہ ابتدائی منظوری پروکیورنمنٹ کمیٹی انچارج انجینئر قمر السلام نے دی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منظوری کے وقت صاف پانی کمپنی کی چیئرمین ڈاکٹر عائشہ غوث تھیں۔ ڈاکٹر عائشہ نے واٹر پلانٹس کے مہنگے ٹھیکے دینے کی حمایت کی۔

نیب ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈی جی اینٹی کرپشن مظفر رانجھا نے صاف پانی کمپنی میں کرپشن چھپانے کی کوشش کی۔ اینٹی کرپشن پنجاب مجموعی طور پر مہنگے ٹھیکوں سے متعلق معاملات کو چھپاتا رہا۔

خیال رہے کہ صاف پانی کمپنی میں کرپشن اور بے ضابطگیوں سے متعلق از خود نوٹس بھی لیا جاچکا ہے اور کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبہ بھر میں 4 سال میں 116 فلٹریشن پلانٹ لگائے، جن پر 400 کروڑ روپے خرچ کر دیے گئے۔

عدالت نے صاف پانی کمپنی کے تمام ملازمین اور افسران کی تنخواہوں سمیت مراعات کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں