سارک کانفرنس کا دوسرا روز‘ سیکرٹری داخلہ سطح کا اجلاس جاری -
The news is by your side.

Advertisement

سارک کانفرنس کا دوسرا روز‘ سیکرٹری داخلہ سطح کا اجلاس جاری

اسلام آباد : سارک وزرائےداخلہ اجلاس کا آج دوسرے روز اسلام آباد میں جاری ہے، کانفرنس میں سارک ممالک کے سیکرٹری داخلہ دہشت گردی،منشیات،انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اوررکن ممالک میں ویزےکی چھوٹ سے متعلق امور پر غور کیا جارہا ہے.

تفصیلات کے مطابق سارک ممالک کی سہہ روزہ وزرائے داخلہ کانفرنس اسلام آباد میں جاری ہے،پاکستانی سیکریٹری داخلہ عارف خان کوکانفرنس کاچیئرمین منتخب کرلیاگیا،آج ہونے والے سیشن میں رکن ممالک کے سیکرٹری داخلہ‘ آئندہ روز ہونے والے سارک وزرائے داخلہ کے سیشن کے لیے تجاویز تیار کریں گے.

آئندہ روز منعقد ہونے والے اس سیشن کی صدارت پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان کریں جبکہ وزیراعظم نواز شریف اختتامی سیشن سے خطاب کریں گے۔

سارک وزرائے داخلہ اجلاس میں سارک ممالک کےسیکرٹری داخلہ دہشت گردی سمیت انسانی اسمگلنگ اور دیگر امور پر غورکیاجارہاہے.

کانفرنس میں پاکستان، بھارت،بنگلہ دیش،افغانستان،بھوٹان،نیپال اور سری لنکا کے ورزائے داخلہ شریک ہیں.

اس سے قبل گزشتہ روز ڈی جی پاسپورٹ امیگریشن پاکستان عثمان باجوہ کی زیر صدارت سارک ممالک کےڈی جی امیگریشنز کا پہلا اجلاس ہوا جس میں سارک ممالک کےشہریوں کیلیےویزےسےاستثنی پرغورکیا گیا۔

اجلاس میں بزنس کمیونٹی،ثقافتی نمائندوں اورسرکاری حکام کےلیے آسانیاں پیداکرنےاور رکن ممالک کےشہریوں کومزیدقریب لانے کیلئے مختلف تجاویز زیرغورہے۔

سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارتی وزیرداخلہ آج دوپہر ساڑھے تین بجے پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے اور جمعرات کے روز ہونے والے سارک کے وزرائے داخلہ کےاجلاس میں شرکت کریں گے۔

مزید پڑھیں : بھارتی وزیرداخلہ آئندہ ماہ 2روزہ دورے پرپاکستان آئیں گے

ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ ایک ایسے وقت میں پاکستان آرہے ہیں جب کشمیر میں 22 سالہ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں اور جھڑپوں میں 50 سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔

یاد رہے کہ خطےکےممالک میں باہمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دینےکےپلیٹ فارم سارک میں پاک بھارت کشیدگی،خاص طور پرکشمیر سمیت باہمی تنازعات کےحل میں بھارتی ہٹ دھرمی سارک کےموثر ہونےمیں بڑی رکاوٹ قراردی جاتی ہے۔

سارک کے وزرا ئے داخلہ کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، منشیات کی اسمگلنگ سے متعلقہ مسائل ، چھوٹے ہتھیاروں اور اس طرح کے دیگر چیلنجزکا مقابلہ کرنے کے لئے مربوط اور ٹھوس کوششیں زیر بحث لائی جائیں گی جبکہ کانفرنس کے ایجنڈے میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر غور کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں