پاکستان کی معروف اداکارہ صبا قمر نے اپنے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صحافی نعیم حنیف کو 10 کروڑ روپے کا قانونی نوٹس بھیج دیا۔
گزشتہ دنوں صحافی نعیم حنیف نے یوٹیوب چینل پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں اداکارہ صبا قمر پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ 2003 سے 2004 کے دوران وہ ایک شخص کے ساتھ تعلق میں تھیں، جن سے ان کی شادی نہیں ہوئی تھی اور وہ لاہور کے والٹن روڈ پر اس شخص کے فراہم کردہ گھر میں مقیم تھیں۔
صحافی کی جانب سے ان الزامات کے بعد صبا قمر نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا تھا اب حال ہی میں انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری پر قانونی نوٹس کی تفصیلات شیئر کیں، جس کے مطابق انہوں نے نعیم حنیف کے خلاف 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔
نوٹس کے مطابق صحافی نے اداکارہ کے بارے میں جھوٹے، من گھڑت اور توہین آمیز بیانات دیے اور ٹی وی پر ان کی ذاتی زندگی سے متعلق غیر مصدقہ اور سنسنی خیز دعوے کیے۔
جاری کیے گئے نوٹس میں صبا قمر کے قومی و بین الاقوامی مقام کو اجاگر کیا گیا، خصوصاً ان کے بطور یونیسف پاکستان کی نیشنل ایمبیسیڈر برائے حقوقِ اطفال کردار کو نمایاں کیا گیا۔
قانونی نوٹس کے مطابق نعیم حنیف کو سات دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ درج مطالبات پر عمل کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
صبا قمر نے 10 کروڑ روپے کے مالی ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کی شہرت کو پہنچنے والے نقصان، ذہنی اذیت اور صدمے کا ازالہ کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ انہوں نے متنازع پوڈکاسٹ کو تمام پلیٹ فارمز سے فوراً ہٹانے، عوامی معافی جاری کرنے اور مستقبل میں ان کی ذاتی زندگی سے متعلق کسی بھی قسم کے بیانات یا تبصروں سے مکمل اجتناب برتنے کی ہدایت دی ہے۔
صبا قمر نے انسٹاگرام پر اپنے پیغام میں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایک ایسے صحافی کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے جس نے میرے بارے میں جھوٹے اور بے بنیاد دعوے کیے۔
اداکارہ نے اپنے مداحوں، ساتھیوں اور انڈسٹری کے لوگوں سے اپیل کی کہ جب کوئی آپ کی بدنامی یا بے عزتی کرے تو خاموش نہ رہیں، ایسی حرکات کے خلاف آواز اٹھائیں اور لوگوں کو جوابدہ ٹھہرائیں۔
صبا قمر کا صحافی کے سنگین الزامات پر قانونی کارروائی کا اعلان




