The news is by your side.

Advertisement

ممتاز سماجی رہنماء سبین محمود کے قتل کو ایک سال بیت گیا

کراچی: سماجی رہنما اور ٹی ٹو ایف کی ڈائریکٹرسبین محمود کے قتل کو آج ایک سال مکمل ہوگیا، قاتل گرفتاری کے باوجود اپنے انجام کو نہیں پہنچے۔

ممتاز سماجی رہنما اور معروف این جی او کی ڈائریکٹر سبین محمود کو گزشتہ سال 24 اپریل 2015 کوکراچی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق این جی او دی سیکنڈ فلور (ٹی ٹو ایف) کی ڈائریکٹر سبین محمود اپنی والدہ کے ساتھ رات نو بجے ڈیفنس فیز ٹو میں اپنے دفتر سے گھر جانے کے لئے نکلی تھیں کہ راستے میں نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی تھی۔

سبین محمود کو زخمی حالت میں اسپتال لے جایا جا رہا تھا تاہم انہوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ دیا تھا۔

3

پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سبین محمود کو سینے میں دو ، گردن اور چہرے پر ایک ایک گولی لگی، سبین محمود کی موت گردن میں گولی لگنے کے باعث ہوئی، گولیاں قریب سے ماری گئیں۔

سبین محمود کے قتل کا مقدمہ2 نامعلوم ملزمان کے خلاف والدہ منہاس کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، مقدمہ نمبر214/15قتل اقدام قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔

4

فائرنگ کے واقعے میں سبین کی والدہ بھی زخمی ہوئی تھیں جبکہ ان کے قتل کے عینی شاہد ان کے ڈرائیور کو بھی بعد ازاں قتل کردیا گیا تھا۔

سبین محمود کے قتل کی تفتیش میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب سانحہ صفورا کی تفتیش کے دوران پولیس نے آئی بی اے سے گرایجویشن کرنے والے نوجوان سعد عزیز کو گرفتار کیا۔،

سعد عزیز نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے نہ صرف سانحہ صفورا کی منصوبہ بندی میں حصہ لیا تھا بلکہ اس سے قبل سبین محمود کو بھی قتل کیا تھا۔

5

سعد عزیز نے سبین کو قتل کرنے سے قبل ان کی این جی او دی سیکنڈ فلور میں ہونے والے پروگرامات میں بھی شرکت کی تھی۔

واضح رہے کہ سبین محمود بلوچستان میں لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لئے بلوچ رہنما ماما قدیرکے ہمراہ متحرک تھیں اور قتل سے قبل ان کے ادارے میں اسی حوالے سے ایک سیمینار کا بھی انعقاد ہوا تھا۔

6

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں