The news is by your side.

Advertisement

معروف صوفی بزرگ حضرت سچل سرمست کے 3 روزہ عرس کی تقریبات کا آغاز

خیرپور: صوفی شاعر سچل سرمست کے 197ویں عرس کی تین روزہ تقریبات کا آغاز ہوگیا، کمشنر سکھر ڈاکٹر عثمان چاچڑ نے مزار پر چادر چڑھا کر تقریبات کا آغاز کیا۔

تفصیلات کے مطابق صوفی بزرگ سچل سرمست کے عرس میں ملک بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، تین روزہ عرس میں محفل مشاعرہ، ادبی کانفرنس اور سماع کانفرنس سمیت دیگر تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر جاوید جاگیرانی کے مطابق عرس کی تقریبات میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی کے لیے 900 پولیس اہلکار اور 50 سے زائد رینجرز کے جوان تعینات کئے گئے ہیں، اس موقع پر مزار کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹ نصب کئے گئے ہیں۔

سچل سرمست کئی زبانوں کے شاعر تھے۔ اردو، فارسی، سرائیکی اور ہندی میں ان کا کلام آج بھی موجود ہے۔ سندھی روایات کے مطابق انہیں ’سچل سائیں‘ بھی کہا جاتا ہے، حالانکہ ان کا اصل نام خواجہ حافظ عبدالوہاب فاروقی تھا۔ آپ کا سنہ پیدائش 1739ء ہے۔

حضرت سچل کی روحانیت غضب کی تھی۔ اسی روحانیت، سوز اور جذبے کے سبب وہ سرمستی اور بے خودی میں رہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ آپ ’سرمست‘ کہلائے۔‘

سندھ کی سوہنی دھرتی میں جانے کیا دلکشی ہے کہ انگنت صوفیوں اور شاعروں نے ناصرف یہاں جنم لیا بلکہ متعدد بزرگ تو ایسے تھے جو صدیوں پہلے یہاں کھنچے چلے آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے، حضرت سچل سرمست بھی ایسے ہی صوفی بزرگ شاعر ہیں جنہوں نے ناصرف سندھ کی سرزمین پر قدم رکھا بلکہ آخری سانس بھی اسی سرزمین پر لی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں