The news is by your side.

Advertisement

صدف میری بیوی ہے اس کے جوتے بھی اٹھا سکتا ہوں، شہروز سبزواری

کراچی : فلم اور ٹی وی اداکار شہروز سبزواری کا کہنا ہے کہ مجھے اپنی بیوی کا کام کرنے میں کوئی قباحت نہیں یہ میری زندگی کی ساتھی ہے، اس کے کہنے پر اس کے جوتے بھی اٹھا سکتا ہوں۔

یہ بات انہوں نے گزشتہ روز ایک نجی ٹی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی اس موقع پر ان کی اہلیہ صدف کنول بھی موجود تھیں۔ اداکار شہروز سبزواری نے کہا کہ بطور شوہر وہ اپنی بیوی کے کہنے پر ایک نہیں بلکہ چار مرتبہ انہیں جوتے بھی اٹھا کر دے سکتے ہیں۔

شہروز سبزواری نے اہلیہ صدف کنول کے ہمراہ ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کی، جہاں دونوں نے پیشہ ورانہ زندگی سمیت ذاتی زندگی پر بھی کھل کر باتیں کی۔

دونوں نے حال ہی میں صدف کنول کی جانب سے “شوہر کے جوتے اٹھانے” سے متعلق دیے گئے بیان پر بھی وضاحت کی اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح پہلی مرتبہ ان کی حادثاتی ملاقات ہوئی اور پھر دونوں نے درمیان محبت ہوگئی۔

دونوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ وہ ناروے میں ہونے والے ہم اسٹائل ایوارڈز کی ریہرسل کے دوران ملے اور پھر پرفارمنس کے بعد ان میں گہری دوستی ہوگئی جو بعد میں محبت اور رشتہ ازدواج میں تبدیل ہوگئی۔

چند ہفتے قبل صدف نے کہا تھا وہ بیوی ہونے کے ناتے شوہر کے جوتے بھی اٹھا سکتی ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

شہروز سبزواری نے بتایا کہ مذکورہ شو میں صدف کنول کو احسن خان کے ساتھ پرفارمنس کرنی تھی مگر وہ شو میں شریک نہ ہوئے جس کی وجہ سے انتظامیہ کو شیڈول تبدیل کرنا پڑا۔

شہروز سبزواری اور صدف کنول نے اس دوران میزبان احسن خان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ ان کے ایوارڈز شو میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ بنے۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ ماڈرن ہوں تو کوئی چیز نہیں کرتی ہوں گی، صدف کنول—اسکرین شاٹ

میزبان کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدف کنول نے کہا کہ ان کی جانب سے حال ہی میں شوہر کے جوتے اٹھانے سے متعلق بیان پر بہت زیادہ لوگ ناراض ہوئے۔

شہروز میری محبت ہے میں اس کا ہمیشہ خیال کروں گی، صدف کنول

اداکارہ کے مطابق لوگ ان کے بیان پر اس لیے برہم ہوئے کیوں کہ عام افراد کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ صدف کنول ایک خود مختار اور ماڈرن خاتون ہیں وہ کیسے دوسروں کے کام کر سکتی ہیں؟

صدف کنول نے واضح طور پر کہا کہ ان کی شوہر سے محبت کا ان کے ماڈرن ہونے سے کوئی تعلق نہیں، وہ ہمیشہ شوہر کی خدمت کرتی رہیں گی۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں