ہفتہ, فروری 14, 2026
اشتہار

منٹو کا تذکرہ جس کی زندگی بھی افسانوں کی طرح مختصر تھی!

اشتہار

حیرت انگیز

منٹو کی زندگی اس کے افسانوں کی طرح نہ صرف دل چسپ بلکہ مختصر بھی تھی۔ محض بیالیس سال، آٹھ ماہ اور چار دن۔ 18 جنوری 1955ء کو منٹو نے ہمیشہ کے لیے یہ دنیا چھوڑ دی تھی۔

سعادت حسن منٹو کی اس مختصر سی زندگی کا بڑا حصہ بے پروائی اور لاابالی پن کی نذر ہوگیا۔ کہتے ہیں کہ منٹو نے نہ صرف ایک بھرپور زندگی جی بلکہ اسے بازی کی طرح کھیل کر بسر کیا۔ اہلِ قلم کا خیال ہے کہ اہم بات یہ نہیں، اس نے یہ بازی ہاری یا جیتی، اہم بات یہ ہے کہ اس نے یہ بازی کھیلی اور اس کھیل نے اردو فکشن کے منظر نامے کی سب سے اہم، معنی خیز اور خوش گوار واردات کے طور پر اس کی شناخت درج کی۔ گو کہ منٹو کی عظمت کو اس کی زندگی میں ہی تسلیم کر لیا گیا تھا مگر موت کے بعد سے اِس وقت تک اس کی شہرت، عظمت اور مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا ہے۔

منٹو کو اس کی حقیقت نگاری، اس کی نفسیاتی موشگافی، اس کی دور بین و دور رس نگاہ، اس کی جرأت آمیز اور بے باکانہ حق گوئی، سیاست، معاشرت اور مذہب کے اجارہ داروں پر اس کا تلخ لیکن مصلحانہ طنز اور اس کی مزے دار فقرہ بازیوں کی وجہ سے سراہا گیا ہے۔ ان سب سے بڑھ کر جنسی زندگی پر اس نے مخصوص اور منفرد انداز سے نظر ڈالی ہے جس پر منٹو کو مطعون کیا گیا ہے۔ منٹو ایسا قلم کار ہے جسے داد و تحسین کے شور میں تضحیک کا نشانہ بھی خوب بنایا گیا۔ اس طرح منٹو معاشرے کے لوگوں کی نظر میں ہیرو بھی بنا اور اس نے لعنت ملامت بھی برداشت کی۔

افسانہ نگار، خاکہ نویس، تبصرہ نگار، مترجم اور فلم رائٹر کی حیثیت سعادت حسن منٹو نے اپنے ہم عصروں میں اپنی الگ راہ نکالی اور آج بھی اپنی تخلیقات کے سبب ان کا نام زندہ ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ منٹو کے افسانے، مضامین اور خاکے صرف پڑھے نہیں جاتے بلکہ اہلِ قلم اور ادبی دنیا میں ان پر تنقید اور تخلیقات پر مختلف زاویوں سے مباحث بھی کیے جاتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ منٹو نے حقیقتوں، سچائیوں اور تلخیوں کو بیان کرنے میں کوئی رعایت نہیں کی۔ انھوں نے سماج کی ہر شکل کو لفظوں میں بیان کیا ہے۔

منٹو 11 مئی 1912ء کو ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ عملی زندگی اور قلمی سفر کا آغاز لاہور کے رسائل سے وابستہ ہوکر کیا۔ آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستہ ہوئے تو ڈرامے اور فیچر لکھنے کا آغاز کیا جو بہت پسند کیے گئے۔ بعد ازاں بمبئی منتقل ہوگئے اور وہاں منٹو کو متعدد فلمی رسائل سے بحیثیت مدیر وابستہ رہنے کا موقع ملا۔ اسی دور میں وہ فلموں کے لیے کہانیاں اور مکالمے لکھنے لگے۔ قیامِ پاکستان کے بعد منٹو لاہور آگئے اور اسی شہر میں جگر کے عارضے کے سبب وفات پائی۔ وہ شراب نوشی کی لت میں مبتلا تھے۔

منٹو کے موضوعات میں بڑا تنوع ہے۔ انھیں جنس نگاری اور تقسیم کے وقت کے فسادات کو اپنے افسانوں میں‌ ڈھالنے کی وجہ سے خوب شہرت ملی اور جہاں ان کی کہانیاں پسند کی گئیں، وہیں فحش نگاری کا الزام بھی لگا۔ لیکن منٹو کی حقیقت پسندی، جرأت و بے باکی ادیبوں کے لیے مثال بھی بنی۔ تقسیمِ ہند کے اعلان اور بٹوارے کے بعد ہجرت کرنے والوں پر جو قیامتیں گزریں، اسے منٹو نے بڑی دردمندی سے اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا ہے۔ سعادت حسن منٹو کی یہ تین کہانیاں دیکھیے جو نہ صرف مختصر نویسی میں مصنف کے کمال کی نظیر ہیں بلکہ ظلم و ناانصافی کے ماحول کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ یہ کہانیاں منٹو کے مجموعے ‘‘سیاہ حاشیے’’ سے لی گئی ہیں۔

دعوتِ عمل
آگ لگی تو سارا محلہ جل گیا۔
صرف ایک دکان بچ گئی، جس کی پیشانی پر یہ بورڈ آویزاں تھا، ‘‘یہاں عمارت سازی کا جملہ سامان ملتا ہے’’

خبردار
بلوائی مالکِ مکان کو بڑی مشکلوں سے گھسیٹ کر باہر لے آئے۔
کپڑے جھاڑ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بلوائیوں سے کہنے لگا۔
‘‘تم مجھے مار ڈالو لیکن خبردار جو میرے روپے پیسے کو ہاتھ لگایا۔’’

پیش بندی
پہلی واردات ناکے کے ہوٹل کے پاس ہوئی، فوراً ہی وہاں ایک سپاہی کا پہرہ لگا دیا گیا۔
دوسری واردات دوسرے ہی روز شام کو اسٹور کے سامنے ہوئی، سپاہی کو پہلی جگہ سے ہٹا کر دوسری واردات کے مقام پر متعین کردیا گیا۔ تیسرا کیس رات کے بارہ بجے لانڈری کے پاس ہوا۔ جب انسپکٹر نے سپاہی کو اس نئی جگہ پہرہ دینے کا حکم دیا تو اس نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا۔‘‘مجھے وہاں کھڑا کیجیے جہاں نئی واردات ہونے والی ہے۔’’

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں