ہفتہ, مارچ 7, 2026
اشتہار

صادقین: تصور کا مصوّر، احساس کا نقش گر

اشتہار

حیرت انگیز

صادقین ایک بے مثل فن کار تھے جس نے احساس کی عکاسی کی اور اپنے لطیف تصوّر کو دل کش تصویر کا روپ دیا وہ ایسے فن کار تھے جس کی تخلیق گویا پرت در پرت زندگی اور اس کے مختلف مظاہر کے معنی و مفاہیم ہم پر کھولتی چلی جاتی ہے۔ ایک کامل مصوّر، شاعر اور ہنر مند بھی جس نے فنونِ لطیفہ کی نمایاں اصناف میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور اپنے فن کے جوہر دکھائے ہیں۔

مصوّری، شاعری، خطّاطی اور نقّاشی کے لیے مشہور صادقین کی دریا دلی کا ایک واقعہ مشہور ادیب مستنصر حسین تارڑ نے یوں تحریر کیا ہے، مشرق وسطیٰ میں فن پاروں کی نمائش کے دوران کس طرح ایک عرب شیخ نے انہیں ایک خطاطی کی منہ مانگی قیمت دینے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ وہ شیخ ہر روز ان کی وہ تخلیق دیکھنے آتا اور للچائی نظریں گاڑے رکھتا۔ نمائش کے آخری روز صادقین نے اسے قریب سے بلایا اور اس درویش نے بادشاہوں کے انداز میں پوچھا، ”مانگ کیا مانگتا ہے تو عرب شیخ نے اسی شاہکار کی طرف اشارہ کیا۔ ”بادشاہ“ نے بڑی فراخ دلی سے عطا کر دیا۔ شیخ نے قیمت دریافت کی تو فرمایا ہماری تخلیقات کی کوئی قیمت تھوڑا ہی ہوتی ہے، بس اٹھا لو اور جاؤ۔

صادقین 10 فروری 1987ء کو انتقال کرگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ مشہور ہے کہ صادقین اپنے فن پارے بیچتے نہیں تھے بلکہ جسے چاہتے، بطور تحفہ عنایت کر دیتے تھے۔ شخصیات ہی نہیں اداروں اور آرٹ گیلریز کو بھی صادقین نے اسی طرح اپنے فن پارے دیے۔ 1981ء میں صادقین نے سنگِ مرمر پر مارکر سے سورۂ رحمٰن کی خطاطی کی تھی جو اسلام آباد میں چھوڑ آئے تھے۔ بعد میں سنگ مرمر کی یہ تختیاں کراچی منگوا کر یہاں میونسپل کارپوریشن کو تحفتاً دے دیں۔

پاکستان کے اس عالمی شہرت یافتہ مصور کا تعلق امروہہ سے تھا۔ وہ 20 جون 1930ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا نام سید صادقین حسین نقوی رکھا گیا۔ وہ ایک ایسے گھرانے کے فرد تھے جس میں والدہ اگرچہ مکتبی و نصابی تعلیم سے نابلد تھیں، تاہم میر انیسؔ کے مرثیے نوکِ زبان پر رہتے اور یوں صادقین شروع ہی سے تخیّل اور اظہار کی اہلیت سے واقف ہوگئے۔ امروہہ میں بگلا نامی کوچے میں انھوں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہاں سبھی کو شعر و ادب سے رغبت اور فن سے لگاؤ رہا تھا۔ اس علاقہ میں خوش نویس بھی رہتے تھے اور یہیں صادقین کو وَصلیوں اور شاعری سے لگاؤ ہوگیا۔ شروع ہی سے صادقین کو منظر کشی پسند تھی۔ سو، گھر کی دیواروں کو بھی انہوں نے اس شوق کی نذر کردیا۔ صادقین 24 سال کے تھے جب ان کے فن پاروں‌ کی پہلی نمائش ہوئی۔ 1944-46ء تک صادقین نے آل انڈیا ریڈیو میں اسٹاف آرٹسٹ کی حیثیت سے کام کیا۔ 1946ء میں امام المدارس انٹر کالج میں آرٹ ٹیچر کے طور پر تدریس کا فریضہ انجام دینے لگے اور 1948ء میں آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد پاکستان آگئے۔ شاعری اور مصوری کا آغاز پہلے ہی کرچکے تھے۔ پاکستان میں فن مصوّری اور خطّاطی میں ان کی پہچان بنتی گئی۔ صادقین کی اصل شہرت کا آغاز میورلز سے ہوا جو انہوں نے کراچی ایئرپورٹ، سینٹرل ایکسائز لینڈ اینڈ کسٹمز کلب، سروسز کلب اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی لائبریری میں بنائیں۔ پھر وہ پیرس چلے گئے جہاں اپنے فن پاروں کی نمائش کی اور ناقدین و شائقین سے خوب داد پائی۔ صادقین کو کئی بین الاقوامی اعزازات بھی دیے گئے۔

صادقین کا شاعری سے لگاؤ ایسا تھا کہ انہوں نے کئی شعرا کا کلام مصور کیا۔ خود وہ رباعی کے شیدائی تھے۔ انھوں نے رباعیاں کہیں اور انھیں مصور بھی کیا۔ 1969ء میں غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر صادقین نے کلامِ غالب کو مصورانہ کمال کے ساتھ نہایت خوب صورتی سے پیش کیا۔ انہوں نے اسلامی خطاطی میں ایک نئے طرز کی بنیاد ڈالی۔ لاہور کے عجائب گھر کی چھت بھی صادقین کی لازوال مصوّری کا نمونہ ہے۔ 1986ء میں کراچی کے جناح ہال کو صادقین اپنی مصوری سے آراستہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر اجل نے مہلت نہ دی اور ان کی یہ خواہش ادھوری رہ گئی۔

صادقین کی شاعری کی ابتدا نظموں سے ہوئی۔ وہ ابتداً صدف تخلص کرتے رہے۔ لیکن بعد میں اپنے نام کو ہی تخلص کے طور پر برتنے لگے۔ تاہم وہ شاعری میں صنفِ رباعی تک محدود رہے۔ انھیں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا تھا۔ صادقین کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں