پاکستان کےعظیم مصوراورخطاط صادقین کی 32 ویں برسی -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کےعظیم مصوراورخطاط صادقین کی 32 ویں برسی

کراچی: پاکستان کے شہرہ آفاق مصور، خطاط، نقاش اورشاعر صادقین کی 32 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

سنہ 1930 میں سید صادقین احمد نقوی امروہہ کے جس سادات گھرانے میں پیدا ہوئے، وہ خاندان اپنے فن خطاطی کے حوالے سے نہایت مشہور تھا۔ صادقین کے دادا خطاط تھے، جبکہ ان کے والد باقاعدہ خطاط تو نہ تھے، البتہ نہایت خوشخط تھے۔

امروہہ میں ابتدائی تعلیم اور آگرہ یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد جب پاکستان کا وجود عمل میں آیا تو صادقین اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آبسے۔

صادقین بچپن ہی سے گھر کی دیواروں پر مختلف اقسام کی خطاطی و تصویر کشی کیا کرتے تھے۔ ان کی تصاویر کی پہلی نمائش جس وقت منعقد ہوئی اس وقت ان کی عمر 24 برس تھی۔

پاکستان کی فن مصوری اور خصوصاً فن خطاطی کو بام عروج پر پہنچانے والے مصور صادقین کا ذکر کرتے ہم شاعر صادقین کو بھول جاتے ہیں۔

صادقین ۔ رباعی کا شاعر، خطاطی کا امام

صادقین بہت اچھے شاعر بھی تھے، ان کی رباعیات بھی اسی قدر کمال کی ہیں جس قدر ان کی مصوری کے شاہکار کمال کا درجہ رکھتے ہیں۔ رباعیات میں بے ساختہ پن ہے، تسلسل خیال، فکر اور زبان وبیان کی بے ساختگی اور وارفتگی ہے۔ ان کے ہاں شاعری اور مصوری میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے، بلکہ مصور صادقین اور شاعر صادقین ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

صاقین دنیا کی بھیڑ میں گم ہونے کی بجائے اپنے فن کی دنیا میں ہی مگن رہے، وہ اپنے آرٹ میں سرتاپا ڈوبے رہے۔ 1930ء میں پیدا ہونے والے صادقین 10 فروری 1987 کو کراچی میں انتقال کرگئے، انہیں سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، لیکن ان کا فن انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں