حضرت بیخود کا رنگ دوسرا تھا۔ گھنے پھندنے کی ترکی ٹوپی، جاڑے میں روئی کا فرغل، گرمیوں میں ٹخنوں سے نیچی اچکن، سیدھا پاجامہ اور بوٹ یا پمپ پہنتے تھے۔ شگفتہ مزاج اور باتونی اتنے کہ مبالغہ آرائی میں بھی باک نہیں تھا۔
ان کی غزل بڑی مرصع اور مضمون آفریں ہوتی تھی۔ پڑھنے کا ڈھنگ دل موہ لینے والا نہیں تھا۔ نقلی بتیسی ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ عمدہ شعر پر بھی سننے والوں کو ہنسی آجاتی تھی۔ انہیں اپنی شاعرانہ عظمت کا بڑا غرّہ تھا اور دوسرے بڑے شاعروں کی طرح وہ بھی تعلّی کو روا رکھتے تھے۔ بوڑھے تھے مگر دل جوان تھا۔ عالم شباب کے ایسے ایسے قصہ سناتے تھے کہ آدمی سنتا رہ جائے۔
ایک سہ پہر کو حضرت بیخود کے دولت کدے پر پہنچا۔ ان کا مکان مٹیا محل میں داخل ہو کر دائیں ہاتھ کو گھڑیا میں تھا۔ دروازے پر دستک دی مگر شنوائی نہیں ہوئی۔ البتہ اندر سے کوئی کہہ رہا تھا، ” نہیں دوں گا، نہیں دوں گا۔“
میں بھی کنڈی کھٹکھٹاتا رہا۔ آخر ایک صاحب، بنیان اور تہمد میں باہر نکلے۔ ان سے میر صاحب کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور ذرا رک کر بولے، "استاد چھت پر کبوتر اڑا رہے ہیں۔“
میں نے اپنا نام بتا کر عرض کیا کہ ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور اندر چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد وضو کی بدنی ہاتھ میں لیے پھر برآمد ہوئے اور یہ کہہ کر سامنے والی مسجد کی طرف رخ کیا کہ اگر آپ مولانا راشد الخیری کے صاحبزادے ہیں تو اوپر چلے جائیں، ورنہ کسی اور وقت آئیے۔ میں نے ان صاحب کی ہیبت کذائی پر ہنسی ضبط کی اور پھر ان کے بتائے ہوئے راستے پر اوپر چلا گیا۔ استاد نے علیک سلیک کے بعد پو چھا، "کیسے آئے؟”
میں نے کہا، "والد صاحب کو آپ نے کوئی غزل سنائی تھی۔ ان کے حکم پر حاضر ہوا ہوں۔ مجھے بھی عطا فرمائیے۔“ بہت خوش ہوئے اور لفظوں کو جما کر بولے،” یہ بات ہے؟” پھر انہوں نے ایک مخصوص آواز نکال کر کبوتروں کو جو بہت تیزی سے پرواز کر رہے تھے، واپس بلایا۔ جب وہ چھتری اور فرش پر آکر دانہ چگنے لگے تو کہا، "نیچے چلو۔“
بیخود صاحب کو کبوتر بازی کا خاص شنف تھا۔ بڑے بڑے معرکے سر کرتے تھے ۔ پاس پڑوس کے کبوتر باز انہیں جلانے کے لیے ہارے ہوئے کبوتر واپس لینے آتے تو انہیں غصہ آجاتا اور وہیں کھڑے کھڑے رٹ لگاتے نہیں دوں گا۔ نہیں دوں گا۔ اور ضد میں اتنا کھو جاتے کہ ملاقات کے لیے آنے والے پر بھی انہیں گمان ہوتا کہ کبوتر واپس لینے آیا ہے۔
بیخود صاحب بیٹھک میں آکر اطمینان سے بیٹھ گئے تو میں نے موقع غنیمت جان کر آٹو گراف کی تشریح کی اور عرض کیا، ” میر صاحب! آپ وہ شعر لکھ دیجیے جو والد صاحب کو بے حد پسند آیا ہے، وہ ہنستے ہوئے بولے، "میں سمجھ گیا۔ اس شعر کی صحیح داد مولانا راشد ہی نے دی ہے۔”
حضرت بیخود دہلوی عمر رسیدہ ہونے کے باوجود ہٹے کٹے تھے، مگر جب انہوں نے لکھنے کے لیے قلم دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور پھر بھی نہ لکھ سکے تو مجھے بہت ترس آیا۔ میں اس سے پہلے ایک دو رعشہ زدہ ہاتھ دیکھ چکا تھا، مگر جس بے چارگی سے انہوں نے لکھنے کی کوشش کی اور جس بے دردی سے ان کے دونوں ہاتھ منکر ہو گئے، وہ مجھ سے نہیں دیکھا گیا۔ میں نے ایک ہاتھ سے اہم مقامی اور دوسرے ہاتھ سے ان کے داہنے پہنچے کو سہارا دیا۔ تب جا کر، وہ یہ رقم فرما سکے۔
مری ہستی سے رونق مٹ رہی ہے بزمِ دنیا کی
چراغِ صبح ہوں اے شمع کیوں روتی ہے تو مجھ کو
بیخود دہلوی، ۱۹ اپریل سنہ ۳۴ء
(صادق الخیری کی کتاب آسماں کیسے کیسے سے اقتباس)


