کراچی:سیکیورٹی کی عدم فراہمی، سعید بھرم کو عدالت پیش نہیں کیاجا سکا -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی:سیکیورٹی کی عدم فراہمی، سعید بھرم کو عدالت پیش نہیں کیاجا سکا

کراچی :ایم کیو ایم کے کارکن سعید بھرم کو سیکیورٹی کی عدم فراہمی کے باعث پیش نہ کیا جاسکا، عدالت نے ملزم کو اٹھائیس جون کو عدالت پیش کرنے کا حکم دیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ یومِ علی کے موقع پر پولیس کی نفری جلوس کی حفاظت پر معمور ہے، نفری نہ ملنے کی وجہ سے ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کرسکتے۔

جوڈیشل میجسٹریٹ جنوبی نے سعید بھرم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا، ملزم کے خلاف قتل ،اقدام قتل اوردیگر متعدد مقدمات درج ہیں، سعید بھرم پر اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ ابرار کو دوہزار نو میں قتل کرنے کا الزام ہے، جبکہ قتل کا مقدمہ نبی بخش تھانے میں درج ہے۔

اس سے قبل ایم کیوایم کے گرفتار ٹارگٹ کلر سعید بھرم نے جے آئی ٹی میں انکشاف کیا ہے کہ ایم کیوایم کے چونتیس کارکنوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تربیت حاصل کی جبکہ ساؤتھ افریقا میں ٹارگٹ کلرز کےنیٹ ورک موجود ہیں۔

حالیہ آپریشن کے دوران تیرہ ٹارگٹ کلرز بیرون ملک فرار ہوئے، ٹارگٹ کلر دبئی، ساؤتھ افریقہ اور ملایشیا میں روپوش ہیں۔

سعید بھرم نے انکشاف کیا کہ حالیہ آپریشن کے دوران تیرہ ٹارگٹ کلرز بیرون ملک فرار ہوئے، ٹارگٹ کلر دبئی، ساؤتھ افریقہ اور ملایشیا میں روپوش ہیں، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کیلئے خفیہ کوڈ استعمال کیا جاتا تھا، کلاشنکوف کو کمپیوٹر، پسٹل کو پینسل، اسلحہ اور بارود کو چنا اور راکٹ لانچر کو پائپ کے کوڈز دیئے گئے تھے۔

سعید بھرم نے مزید انکشاف کیا کہ انیس قائمخانی نے دو ہزار بارہ میں ذوالفقارمرزا، آفاق احمد اور شاہی سید کو ٹارگٹ کرنے کا ٹاسک دیا، ملزم نے اراضی کے قبضے میں ملوث نو ایم کیو ایم رہنماؤں کے نام بھی اگل دیئے، جن میں محمد انور،وسیم آفتاب، حماد صدیقی، چنوں ماموں سمیت دیگر شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں