The news is by your side.

Advertisement

آئی جی سندھ کے تبادلے سے چند لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، سعید غنی

کراچی : سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ آئی جی سندھ کے تبادلے پر اپوزیشن کے پیٹ میں مروڑ پڑرہے ہیں ضرور کچھ نہ کچھ تعلق تھا، آئی جی کے تبادلے پر دہرا معیار اپنایا جارہا ہے۔

یہ بات انہوں نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ کسی ایک کے ہٹنے سے چند لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، آئی جی کے تبادلے پر اپوزیشن کے پیٹ میں مروڑ پڑرہے ہیں ضرور کچھ نہ کچھ تعلق تھا، کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کی روزی روٹی اسی پر چل رہی تھی۔

سعید غنی نے کہا کہ پریشانی وزرا اور حکومت کو ہونی چاہیے لیکن ہوتی انہیں ہے، آگ پی ٹی آئی اور آئی جی دونوں کو لگی ہوئی ہے، میرے خیال میں یہ’’پی ٹی آئی جی‘‘ہونی چاہیے تھی، آئی جی کہتے ہیں گیا بھی تو کسی بڑے عہدے پر جاؤں گا۔

وزیر اطلاعات  نے کہا کہ پوری سندھ حکومت نے آئی جی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، آئی جی ہٹانے کا عمل لمبا ہوگیا ہے کیونکہ سندھ سوتیلا صوبہ ہے، پنجاب ،کے پی کے آئی جی کی تبدیلی کا فیصلہ وزیر اعظم خود کرتے ہیں، سندھ کے آئی جی کی تبدیلی کا فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی یہ درست نہیں دہرا معیار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کہتا ہے کہ میں اچھی جگہ جاؤں گا، پی ٹی آئی جی کی میری تھیوری صحیح ثابت ہورہی ہے، باقی صوبوں میں معاملات کچھ اور ہیں، ہم سوتیلے ہیں یہاں کچھ اور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کلیم امام کے سر پرکہیں نہ کہیں بڑا ہاتھ ہے، کلیم امام وفاقی حکومت اور وزیراعظم سے بھی طاقتور ہے تو کوئی حل نہیں، کوئی ایسا افسر قبول نہیں جو سندھ حکومت کیخلاف سازشیں کرے، ایسا افسر استعفیٰ دے اور 2سال انتظار کرکے حلیم عادل شیخ بن کرسامنے آجائے۔

سعید غنی نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو 3نام بھیجےتھے  اس کے بعد کہا گیا کہ آئی جی سندھ کیلئے3نہیں 5نام بھیج دیں، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم سے مختلف امور پر بات چیت کی۔

انہوں نے مزید کہاکہ ٹڈی دل، انسدادپولیو، کروناوائرس سے متعلق گفتگو ہوئی، وزیر اعظم نے جی ڈی اے سے پوچھ کر آئی جی لگانا ہے تو کوئی علاج نہیں جس کے پیچھے پڑتا ہوں جان نہیں چھوڑتا ہوں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں