The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، عوام سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ورنہ لاک ڈاؤن کی طرف جائیں گے، سعید غنی

کراچی: سندھ کے وزیر اطلاعات اور وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ میں کروناوائرس کے 65 مریضوں کا تعلق کراچی سے ہے، چالیس ایسے مریض ہیں جن کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں ہے، اگر عوام نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو حکومت لاک ڈاؤن کی طرف جائے گی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ہر لمحہ پرجوش میں گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہری کرونا وائرس کی وبا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، اگر معاملے کی حساسیت کو نہ سمجھا گیا تو لاک ڈاؤن کی طرف جائیں گے جس سے عوام کو زیادہ مسائل پیش آسکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ  ہمارےسامنےچین اور اٹلی کی مثالیں موجود ہیں، چین نے وبا آتے ہی شہروں کو لاک ڈاؤن کیا جس کے بعد وائرس پرکنٹرول کیا گیا، اسی طرح اٹلی کی حکومت نے اپنی عوام کو بھی بتایا مگر وہاں کے لوگوں نے معاملے کی حساسیت کو نہ سمجھا جس کی وجہ سے صورت حال خراب ہوئی۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے اقدامات نہ کیے تو چیزیں ہاتھ سے نکل جائیں گی، ہم نے صوبے کے تعلیمی ادارے بند کیے تو لوگوں نے تفریح مقامات کا رخ کرلیا، میرےبس میں ہو تو شہریوں کوزبردستی گھروں میں بندکردوں۔

مزید پڑھیں: کراچی میں کورونا کے مزید 28 کیس سامنے آ گئے

صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے ایک خاتون شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچیں،  جس کے بعد اُس گھر کے 12 افراد وائرس سے متاثر ہوئے،  کراچی میں13 مارچ کو  پہلامریض آیاجس کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں تھی۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اگر لاک ڈاؤن کیا گیا تو شہریوں کو تکلیف ہوگی تاہم اگر یہی فیصلہ دو ماہ بعد کیا گیا تو عوام کو 100 گناہ زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اب تک جو کیسز سندھ میں رپورٹ ہوئے اُن میں سے چالیس مریضوں نے متاثرہ ممالک کا سفر نہیں کیا بلکہ وائرس اُن میں مقامی سطح پر ہی منتقل ہوا، کرونا کی علامات چودہ روز میں ظاہر ہوجاتی ہیں، اگر کسی کو علامات ظاہر ہوں تو وہ ہیلپ لائن نمبر پر مطلع کرے ہماری ٹیمیں خود گھر پہنچیں گی۔

سعید غنی نے ایک بار پھر شہریوں سے اپیل کی اور کہا کہ عوام معاملےکوسنجیدہ لیں کیونکہ یہ وقت وبا پر قابو پانےکیلئے بہت  زیادہ اہم ہے، اگر حکومتی احکامات کی خلاف ورزی ہوئی اور عوام نے خود سے سنجیدگی کا مظاہر نہ کیا تو پھر آخری حل لاک ڈاؤن ہی ہے۔

ذاتی زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ والد کو سیاست کی وجہ سے قتل کیا گیا، جس وقت انہیں مارا گیا میری عمر 20 برس تھی، باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد میری زندگی تبدیل ہوگئی، کبھی نہیں سوچا تھا سیاست میں آؤں گا مگر سیاسی جدوجہد میں شامل ہوا، سانحہ کارسازمیں میرے2 قریبی رشتے دار جاں بحق ہوئےجبکہ میری اہلیہ سانحہ کارسازکی عینی شاہد تھی، بی بی شہید ہوئیں توبیٹی کانام بےنظیر رکھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں