ہیئر ٹرانسپلانٹ بالوں کی بحالی کا ایک جدید جراحی طریقہ کار ہے جو گنج پن اور بالوں کے پتلے ہونے کے علاج کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’باخبر سویرا‘ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈرماٹولوجی ڈاکٹر سید بلال شمس نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے گنج پن کے علاج سے متعلق ناظرین کو آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ سر کے بال گرنے کی ویسے تو بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ جینیاتی عمل ہے، گنج پن کے علاج کیلیے جینیات کا تعین کرنا بہت ضروری ہے۔
مزید وجوہات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جو خواتین بالوں کو پیچھے سے کھینچ کر چوٹی بناتی ہیں یا مرد حضرات سر پر ہیلمٹ یا کیپ زیادہ دیر تک پہنتے ہیں، اس کے علاوہ خون کی کمی، ہارمونل ڈس آرڈر بھی اس کی اہم وجوہات ہیں۔
بازاروں میں دستیاب جڑوں والے بالوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہے کسی اور انسان کے بال نہیں لگوائے جاسکتے البتہ ایکسٹیشن لگایا جاسکتا ہے اور وہ مشورہ بھی ہم تب دیتے ہیں جب ہیئر ٹرانسپلانٹ ممکن نہ ہو۔
کیا ہیئر ٹرانسپلانٹ کرانا محفوظ عمل ہے؟
اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر بلال شمس نے بتایا کہ بال کرنے کی بیماری کافی طویل عرصے تک رہتی ہے اور یہ عمر بڑھنے کے عمل کا حصہ ہے لہٰذا وقت کے ساتھ اور جسمانی صحت کے ساتھ بالوں کی حفاظت اور ان کی دیکھ بھال بھی لازمی کرنی چاہیے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


