The news is by your side.

Advertisement

شام میں سیف زون منصوبے پر مرحلہ وار عملدر آمد ہوگا، پینٹاگون

واشنگٹن : ترجمان پینٹاگون نے واضح کیا کہ سیف زون کا مقصد ترکی کی سرحد اور شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس تنظیم کے زیر کنٹرول علاقوں کے درمیان الگ تھلگ زون قائم کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے ترجمان نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ شام کے شمال مغرب میں سیف زون کے قیام سے متعلق ترکی اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر بتدریج عمل ہو گا،ترجمان کے مطابق معاہدے سے متعلق بعض کارروائیوں کا آغاز جلد کر دیا جائے گا۔

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان شون رابرٹسن نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اس وقت ہم اپنے ترک عسکری ہم منصبوں کے ساتھ مشترکہ رابطہ کاری مرکز کے حوالے سے آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں،سیکورٹی میکانزم پر عملدرآمد مرحلہ وار ہو گا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی شرائط کے مطابق حکام شمالی شام میں ایک سیف زون کی تیاری کے واسطے رابطہ کاری مرکز کو استعمال کریں گے، اس مرکز کا صدر دفتر ترکی میں ہو گا۔

اس سیف زون کا مقصد ترکی کی سرحد اور شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس تنظیم کے زیر کنٹرول علاقوں کے درمیان ایک الگ تھلگ زون قائم کرنا ہے، مذکورہ کرد یونٹس کی فورس کو واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے مگر انقرہ اسے ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔

ادھر امریکی مرکزی کمان کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل جوزف ووٹل نے اس نوعیت کے زون پر ترکی کے کنٹرول کی اعلانیہ مخالفت کی ہے۔

انگریزی ویب سائٹ پر جاری مضمون میں ووٹل نے کہا کہ ایک ایسا سیف زون جس پر ترکی کا کنٹرول ہو ، یہ وہاں موجود تمام فریقوں کے لیے زیادہ مسائل پیدا کر دے گا۔

اس مضمون میں جو ووٹل نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں ترکی کے امور کی ماہر اونول طول کے ساتھ مل کر تحریر کیا ،، یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرات کے مشرق میں 30 کلو میٹر اندر تک سیکورٹی زون نافذ کرنے کے برعکس نتائج سامنے آئیں گے۔

غالب گمان کے مطابق یہ 90 فیصدکرد آبادی کی نقل مکانی ، حالیہ طور پر ایک بڑے چیلنج یعنی انسانی صورت حال کی مزید ابتری اور مزید تنازعات کا ماحول پیدا کرنے کا باعث ہو گا۔

یاد رہے کہ داعش تنظیم کے خلاف جنگ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے کرد شامیوں نے شمال مشرقی شام میں ایک خود مختار ریجن قائم کر لیا تھا۔

تاہم دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے اختتام کے ساتھ ہی امریکی فوج کے انخلاء کے امکان نے کردوں کے اندر ترکی کے حملے کا اندیشہ پیدا کر دیا، انقرہ طویل عرصے سے اس کارروائی کا عندیہ دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی ابھی تک شام کی سرحد کے پار دو فوجی آپریشن کر چکا ہے، یہ آپریشن 2016 اور 2018 میں کیے گئے۔

دوسری جانب ترکی وزارت دفاع نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ ترکی کے ڈرون طیاروں نے شمالی شام میں اس علاقے میں کام شروع کر دیا ہے جہاں ایک سیف زون کے قیام پر واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے، تاہم ان طیاروں کی کارروائیوں کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں