ماہرین کے مطابق پاکستان میں گاڑیوں میں سیفٹی فیچرز عالمی اسٹینڈرڈ کے مطابق نہیں ہیں، جو حادثات کا سبب ہیں۔ وفاقی کابینہ نے حال ہی ایک بل کے ذریعے تمام گاڑیوں کے لیے کم از کم حفاظتی معیار کو یقینی بنانے کو لازمی قرار دیا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں ٹریفک حادثات سے اموات کی شرح جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے، ملک میں سالانہ تقریباً 30 ہزار افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملک میں 74 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ کاریں ہیں۔
ویڈیو رپورٹ: سائٹ ایریا میٹروول کی مرکزی سڑک پر سفر کٹھن امتحان سے کم نہیں
پاکستان نے جن بین الاقوامی سیفٹی معیارات کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اُن کے مطابق سڑک پر چلنے والی ہر گاڑی میں 160 سے زائد سیفٹی فیچرز ہونے چاہیئں۔ جب کہ آٹو انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں بننے والی گاڑیوں میں اس وقت صرف 17 سیفٹی پروٹوکولز نصب کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی کابینہ نے عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے حال ہی میں ایک بل منظور کیا ہے، جس کا مقصد ملک میں گاڑیوں کی انڈسٹری کو بین الاقوامی معیار کے مطابق فعال کرنا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر 3 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ مجوزہ بل کی منظوری کے بعد کوئی بھی گاڑی مقرر کردہ قوانین کی خلاف ورزی پر فروخت نہیں کی جا سکے گی۔
ملٹی میڈیا – ویڈیو خبریں دیکھنے کے لیے کلک کریں
ندیم جعفر اے آر وائی نیوز سے وابستہ ایک ممتاز صحافی ہیں جو کہ مختلف سماجی اور سیاسی موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ندیم کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری اور آسٹریلیا کے ایک باوقار ادارے سے ایڈوانس سرٹیفیکیشن کے حامل
ہیں۔


