منگل, اگست 11, 2026
اشتہار

اردو کے مقبول شاعر ساغر صدیقی کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

زندگی میں دکھ درد، حالات کے اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز کا سامنا تو سبھی کسی نہ کسی شکل میں کرتے ہیں، لیکن ساغر صدیقی وہ انسان تھا جس نے تلخیٔ ایّام اور غمِ روزگار کو صرف جھیلا ہی نہیں بلکہ برتا بھی تھا۔ وہ یوں کہ موقع پرستوں نے ساغر کی غزلیں اور گیت معمولی معاوضے اور بسا اوقات صرف نشہ پورا کرنے کے لیے چند روپے تھما کر سمیٹ لیے۔ ساغر صدیقی 19 جولائی 1974ء کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آج اس شاعرِ درد و غم کی برسی ہے۔

ساغر صدیقی کے تفصیلی اور مستند حالاتِ زندگی بہت کم دست یاب ہیں۔ انھوں نے 1928ء میں انبالہ میں آنکھ کھولی۔ ان کا خاندانی نام محمد اختر تھا۔ غربت کا ان کے گھر پر گویا راج تھا۔ ان حالات میں باقاعدہ تعلیم کا حصول ممکن نہ تھا۔ اپنے محلّے کے ایک بزرگ سے کچھ لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ نوعمری میں امرتسر چلے گئے اور وہاں چھوٹے موٹے کام کرنے لگے، انھوں نے کنگھیاں بنانے کا فن سیکھا اور اسی عرصے میں‌ شعر گوئی کا سلسلہ شروع ہوا۔

امرتسر 1944ء میں آل انڈیا مشاعرہ میں کسی کے توسط سے ساغر کو بھی کلام پڑھنے کا موقع ملا۔ ساغر کی آواز میں بلا کا سوز اور روانی تھی۔ مشاعرہ انھوں نے پڑھا اور اسی پہلے مشاعرے سے ان کی شہرت کا سفر شروع ہوگیا۔ ساغر کو لاہور اور دوسرے شہروں میں منعقد کیے جانے والے مشاعروں میں موعو کیا جانے لگا۔ لوگ ساغر کا کلام شوق سے سنتے اور اسے اپنی بیاض کا حصّہ بنانے لگے۔ ان کی غزلیں بڑے بڑے ادبی پرچوں میں شایع ہونے لگیں۔ اسی زمانہ میں تقسیمِ ہند کے بعد ساغر امرتسر سے لاہور چلے آئے۔ یہاں لطیف انور گورداسپوری کی صحبت میں‌ رہے اور ان سے فیض پایا۔ ساغر کو ان کی شاعری اور مشاعروں میں‌ شرکت کے سبب کچھ آمدنی بھی ہونے لگی تھی۔ روزناموں اور ادبی جریدوں میں شایع ہونے والے کلام نے انھیں ہر خاص و عام میں مقبول بنا دیا۔ شہرت اور مقبولیت کے اس زمانہ میں بدقسمتی سے ساغر کا راستہ کھوٹا ہوگیا اور خراب صحبت نے انھیں نشّے کی لت میں‌ مبتلا کردیا۔ کہتے ہیں کہ وہ بھنگ، شراب، افیون اور چرس وغیرہ کے عادی ہوگئے اور ہر قسم کا نشہ کرنے کے باعث ان کی جسمانی حالت بگڑنے لگی۔ وہ مستی و بے حالی کے عالم میں‌ جہاں جگہ مل جاتی پڑ جاتے۔ مشقِ سخن تو جاری رہی، لیکن ان کا حلیہ بہت خراب ہوگیا اور ساغر اپنی جسمانی صفائی اور لباس سے بے پروا ہوکر فٹ پاتھ پر زندگی بسر کرنے لگے۔

ان کے مداح اور ہم عصر شعرا ان کو دیکھتے یا ان کے بارے میں علم ہوتا تو بہت دکھ کا اظہار کرتے۔ کچھ دوستوں نے کوشش کی کہ وہ سدھر جائیں مگر ناکام رہے۔ جب وہ کچھ ہوش میں رہتے تو اپنے دوستوں سے ملاقات کرتے اور ان کے کہنے پر چند مشاعرے بھی پڑھے لیکن وقت کے ساتھ ساغر یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔ وہ لاہور میں داتا دربار کے اطراف گھومتے پھرتے دکھائی دیتے اور وہیں‌ قریبی فٹ پاتھ پر رات گزار دیتے۔ کہتے ہیں کہ ساغر دوسروں کو چند روپوں کے عوض کلام لکھ کر دینے لگے تھے تاکہ منشیات خرید سکیں اور لوگ ان کا کلام اپنے نام سے شایع کروا دیتے تھے۔

ساغر کا کلام جو مشاعروں اور ادبی پرچوں میں موجود تھا، اسے ’زہرِ آرزو‘، ’غمِ بہار‘، شبِ آگہی‘، ’تیشۂ دل‘، ’لوحِ جنوں‘، ’سبز گنبد‘، ’مقتل گل‘ کے نام سے کتابی شکل میں‌ محفوظ کیا جاسکا۔ کچھ عرصہ بعد ساغر فالج کا شکار ہوگئے اور ان کا ایک ہاتھ‍ ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو گیا۔ ان کا جسم سوکھ کر کانٹا ہوچکا تھا اور ایک روز فٹ پاتھ پر ہی اس شاعر نے دَم توڑ دیا۔ انھیں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ساغر صدیقی کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔

کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا

بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں
ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں