The news is by your side.

Advertisement

‘فواد چوہدری کے ایک دو بیانات کی وجہ سے کارکنان میں اشتعال ہے’

اسلام آباد: سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ فواد چوہدری کے ایک دو بیانات کی وجہ سے کارکنان میں اشتعال ہے، ان کے بیانات ٹی ایل پی کے ساتھ حکومتی مذاکرات کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق صاحبزادہ حامد رضا نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست سے ٹکرانا اہلسنت کی پالیسی کبھی نہیں رہی، مناسب موقع فراہم کیا جائے تاکہ معاملات حل کیے جائیں۔

انھوں نے کہا وزیر اعظم کے ساتھ علما کی ملاقات میں فواد چوہدری میٹنگ میں موجود نہیں تھے، نہ ہی انھیں وہاں سے ہٹایا گیا تھا، فواد چوہدری کے ایک دو بیانات کی وجہ سے کارکنان میں اشتعال ہے۔

حامد رضا نے کہا ایسی صورت حال نہیں ہے کہ ہم کسی کے خلاف جنگ کر رہے ہوں، ہم ایسے اقدامات بھی نہیں اٹھائیں گے کہ لوگوں کے جذبات مجروح ہوں، صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتوں میں فواد چوہدری پر خدشات کا اظہار کیا گیا، انھیں بتایا گیا فواد چوہدری کے بیانات مذاکرات کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔

حکومت سعد رضوی کے کیسز ختم کرنے کے لیے تیار ہو گئی، ذرائع

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مختلف جگہوں پر مذاکرات چل رہے ہیں، ہم سب کو تھوڑی دیر صبر کرنا چاہیے، انشاءاللہ مذاکرات سے مثبت نتائج آئیں گے۔

واضح رہے کہ ذرائع نے بھی کہا ہے کہ اجلاس میں شریک علما نے مذہبی معاملات میں بعض وفاقی وزرا کی مداخلت پر اعتراض کیا، بالخصوص وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین چوہدری کے بیانات کے حوالے سے بات کی گئی۔

علمائے کرام نے فواد چوہدری کے بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حساس مذہبی معاملات ہوں تو وزرا محتاط بیانات دیا کریں، دوسری طرف اس صورت حال میں فواد چوہدری نے فوری کسی رد عمل سے گریز کیا ہے، انھوں نے آج شیڈول پریس کانفرنس بھی نہیں کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں