The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ساہیوال : بچوں کو گاڑی سے اتار کر دوبارہ فائر کئے گئے، جے آئی ٹی رپورٹ

لاہور : سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وقوعہ کے روز گاڑی سے فائرنگ نہیں کی گئی بلکہ بچوں کو گاڑی سے اتار کر اہلکاروں نے دوبارہ گولیاں چلائیں۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ ساہیوال پر جاری جے آئی ٹی رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ گاڑی یا موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے اہلکاروں پر فائرنگ نہیں ہوئی بلکہ بچوں کو گاڑی سے اتار کر گاڑی پر دوبارہ فائر کئے گئے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں  کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی سی ٹی ڈی نے واقعے کے بعد حالات پر اثرانداز ہونے اور شواہد کے اکٹھا کرنے پر تاخیر حربے استعمال کیے۔

لاہور سے اے آر وائی نیوز کے نمائندے خواجہ نصیر کی رپورٹ کے مطابق مقتول خلیل کے اہلخانہ کے ہمراہ ترجمان حکومت پنجاب نے  پریس کانفرنس کی۔

 ترجمان حکومت پنجاب شہباز گل  نے بتایا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مقتول خلیل کا خاندان معصوم جبکہ ذیشان مقتول کے دہشت گردوں کے ساتھ رابطوں کے ناقابل تردید ثبوت ملے ہیں تاہم مقتول خلیل کی گاڑی سے سی ٹی ڈی اہلکاروں پر کسی قسم کی فائرنگ نہیں کی گئی۔

مقتول خلیل کے بھائی جلیل کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی قانونی اور دیگر امداد کو سراہتے ہیں تاہم ان کا کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

\مزید پڑھیں: ساہیوال واقعہ، ڈولفن فورس سے منسلک ذیشان کا بھائی مشکوک قرار

مدعی کے وکیل کا کہنا تھا کہ مقتول کے اہلخانہ رپورٹ کے80 فیصد حصوں سے متفق ہیں تاہم فائرنگ کس کے کہنے پر کی گئی اس کا جواب رپورٹ میں نہیں دیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں