ساہیوال (09 جولائی 2026): ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں ایک نومولود بچی کو مردہ قرار دینے سے متعلق کیس کی انکوائری مکمل کر لی گئی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 5 جولائی کو بچی کی لاش غلط وارث کے حوالے کر دی گئی تھی۔
انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومولود بچی کی شناخت اور ایڈریس کی تصدیق کیے بغیر لاش حوالے کر دی گئی تھی، جب کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے انکشاف ہوا کہ جسے مردہ قرار دیا گیا تھا وہ نومولود بچی زندہ نکلی۔
رپورٹ میں ڈاکٹر زین العابدین، ڈاکٹر حمنہ اور نرس صبا رمضان کو ذمہ دار قرار دیا گیا، جب کہ ڈیٹا آپریٹرز اور سیکیورٹی گارڈز بھی غفلت کے مرتکب قرار دیے گئے۔
انکوائری کمیٹی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی، نیز نرسری کی سیکیورٹی مزید سخت اور سیکیورٹی کمپنی پر بھی جرمانہ عائد کرنے کی سفارش کی گئی۔
اسپتال انتظامیہ کی غفلت، زندہ بچی مردہ قرار، ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری
پرنسپل ساہیوال میڈیکل کالج ڈاکٹر اختر ملک نے اس معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کی سربراہی ڈاکٹر نصیر احمد کے سپرد کی گئی تھی جب کہ دیگر اراکین میں ڈاکٹر سعیدہ بانو اور تنویر کوثر شامل تھیں۔
خیال رہے کہ اتوار کو ساہیوال کے ٹیچنگ اسپتال میں انتظامیہ نے ایک انتہائی سنگین غفلت کی وجہ سے ایک زندہ نوزائیدہ بچی کو مردہ قرار دے کر باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا تھا، اور بچی کی لاش وصول کرنے کے لیے اس کے ماموں سے کاغذی کارروائی پر دستخط بھی کروا لیے تھے۔
لیکن بچی کے اہل خانہ کے مطابق جب انھیں بچی کی موت کی اطلاع دی گئی تو انھیں لاش فراہم نہیں کی جا رہی تھی، جس پر انھیں شک ہوا کہ بچی کو اغوا کر لیا گیا ہے، اس لیے انھوں نے فوراً پولیس کو بلا لیا، جس کے دباؤ پر اسپتال انتظامیہ نے بالآخر زندہ بچی والدین کے حوالے کی۔
اسپتال انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ یہ پورا معاملہ دو ماؤں کے ایک جیسے نام ہونے کی وجہ سے پیش آیا، چلڈرن وارڈ میں دو نوزائیدہ بچیاں داخل تھیں جن کی ماؤں کے نام بالکل ایک جیسے تھے، جن میں سے ایک بچی کا انتقال ہو گیا تھا۔ ناموں کی اسی مماثلت کی وجہ سے غلطی سے زندہ بچی کے خاندان کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو گیا۔
احتجاج اور پولیس کی آمد کے بعد جب ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ شکایت کنندہ کی بچی زندہ ہے جبکہ فوت ہو جانے والی بچی کسی دوسرے خاندان کی تھی۔


