The news is by your side.

Advertisement

فرانسی صحافی کا جہادی گروپ کے خلاف تہلکہ خیز انکشاف

پیرس: فرانسیسی صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ گرفتار ہونے سے پہلے انہوں نے جہادی گروپ کی دراندازی کو موبائل کیمرے میں محفوظ کر رکھا ہے جس کی وہ ویڈیو جاری کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی صحافی سید رمزی نے برطانوی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹریو دیتے ہوئے بتایا کہ  یہ ویڈیو اُن تمام نئے آنے والے جہادیوں کے دماغ کو پلٹنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ یہ ویڈویوز کو پیر کی رات فرانسی ٹی وی پر شائع کردیں گے۔

رمزی نے اس ویڈیو میں اپنے آپ کو بطور مسلمان بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلمان نوجوانوں کو یہ بتانے کی کوشش کریں گے 13  نومبر کو پیرس میں ہونے والے حملے  میں دہشت گردوں نے در اندازی کرتے ہوئے 130 کو قتل کر دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس ویڈیو کو بنانے کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ مایوس نوجوانوں کو  علم ہوجائے کہ دہشتگردی، خودکش بمبار کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تاکہ نوجوان اس طر ف مائل ہونا چھوڑ دیں۔

بدقسمتی سے ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مایوسیوں کے سبب نوجوان شدت پسندوں سے متاثر ہوکر انکے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور شدت پسند گروپ سے رابطہ کرتے ہیں۔

شدت پسند گروپس کے کارندے بڑی تعداد میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود ہیں ، ان کا کام یہ ہے کہ وہ نوجوانوں سے روابط بڑھائیں اور انہیں شدت پسندی کی طرف راغب کریں۔

نوجوانوں کو  ایک ساتھ جمع کر کے گروپ کے سرغنہ ‘ امیر ’ سے ملاقات کرائی جاتی ہے ، غیر مسلم گھرانوں میں پیدا ہونے والے لڑکے ایسے افراد سے جلدی متاثر ہوتے ہیں ، جو ملاقات کے بعد عموماً  اپنا مذہب تبدیل کرلیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی پہلی ملاقات ترکی نژاد فرانسیسی شہری اسامہ نامی شخص سے ہوئی تھی، وہ صحافیوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

اس شخص کا ایک دوسرا نام ابو حمزہ بھی تھا اور اس کا کام تھا کہ خودکش دھماکوں کے لئے لوگوں کو تیار کرے۔

اسامہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ کام کرو ایک یہی  راستہ ہے جو جنت کو جاتا ہے ، میرے بھائی تم ہمارے ساتھ چلو جنت میں خوبصورت خواتین  اور فرشتے جنت کے باہر کھڑے تمھارا انتظار کررہے ہیں۔

یہ دنیا عارضی ہے اور وہ مستقل ٹھکانا ہے جہاں انعام کے طور پر تمھیں پروں والے گھوڑ ے اور بڑے بڑے محلات انعام میں دیے جائیں گے۔

ایک اور ملاقات پیرس کے مضافاتی علاقے میں مسجد کے باہر ہوئی ، جس میں ایک شخض راکٹ لانچر اپنے ہمراہ لے کر آیا اور اس نے ایک جہاز جو بورج ائیرپورٹ کی طرف جارہا تھا اس کی نشاندہی کرتے ہوئے بولا کہ تم اس جہاز کو آسانی سے گرا سکتے ہو، تم یہ آسانی سے حاصل کرسکتے ہو اس سے تمھارا نام یاد رکھا جائے گا۔

اس نے مزید بتایا کہ گروپ کے کچھ ممبران نے شام پہنچنے کی بھی کوشش کی تھی ، مگر ترکی حکومت کی جانب سے انہیں گرفتار کرکے فرانس کی پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا ، ان تمام لوگوں نے 5 ماہ کی سزا کاٹی اور رہا ہوگئے ،اُس نے کہا کہ ہم آرمی کو ضرور نشانہ بنائیں گے۔

ہم اُن صحافیوں کو بھی ضرور نشانہ بنائیں گے جنہوں نے اپنی صحافت کو اسلام کے خلاف استعمال کیاہے ۔ اس کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے چار لوگوں نے چارلی ہیبدو کے دفتر پر حملہ کیا تھا جس میں 12 سے زاہد افراد ہلاک ہوئے۔

سیکورٹی اداروں نے ہمارے کئی لڑکے گرفتار کئے ہوئے ہیں ، صحافی اگر ہمارے لڑکوں کی رہائی میں مدد نہیں کریں گے تو ہم ان کو انتقام کا نشانہ ضرور بنائیں گے۔

آخر میں سید رمزی نے کہا کہ اب میں اس دراندازی پر سے پردہ ضرور چاک کروں گا ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں