طرابلس (04 جنوری 2026): قذافی اور سیف الاسلام کے قتل کے واقعات میں ایک حیرت انگیز مماثلت کا انکشاف ہوا ہے، بتایا جا رہا ہے کہ قاتلانہ حملے میں سیف الاسلام کا بیٹا بھی زخمی ہو گیا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سیف کے کزن احمید قذافی نے بتایا کہ اس واقعے کے دوران سیف الاسلام کا بیٹا بھی زخمی ہوا ہے، تاہم ابھی تک بیٹے کے زخموں کی نوعیت یا صحت کے حوالے سے کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ جب معمر قذافی کو باغیوں نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا تو اُس وقت ان کا بیٹا سیف الاسلام بھی ان کے ہمراہ تھا، اور وہ بھی اس حملے میں زخمی ہو گئے تھے، اور انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا، چھ سال قید رہنے کے بعد انھیں 2017 میں رہائی ملی تھی۔
معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قتل
قذافی خاندان کے قریبی ذرائع نے العربیہ/الحدث کو یہ انکشاف بھی کیا کہ سیف نے اپنی موت سے قبل حملہ آوروں کا ذاتی طور پر مقابلہ کیا، سیف کے کزن نے بتایا کہ گزشتہ عرصے میں سیف الاسلام قذافی پر متعدد مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ سیف الاسلام قذافی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے محرکات جاننے کے لیے سرکاری تحقیقات جاری ہیں، ابھی تک ان کی لاش زنتان شہر سے منتقل کرنے کا فیصلہ بھی نہیں کیا گیا ہے، دوسری جانب ان کی میت کی حوالگی اور پوسٹ مارٹم کروانے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
سیف الاسلام قذافی کی سیاسی ٹیم کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مسلح افراد نے سی سی ٹی وی کیمرے بند کرنے کے بعد ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا، جس کے بعد وہاں شدید جھڑپ ہوئی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


