منگل, اگست 11, 2026
اشتہار

سدا بہار فلمی نغمات کے خالق سیف الدین سیف کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

سیف الدین سیف کی شہرت بطور فلمی گیت نگار ہی نہیں‌ ہے، وہ ایک باکمال فلم ساز، ہدایت کار اور مصنّف بھی تھے کرتار سنگھ (1959ء) کی وہ فلم تھی جسے بہت سراہا گیا اور یہ سیف الدین سیف کی کاوش تھی۔ 12 جولائی 1993ء کو سیف الدین سیف کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔ آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔

20 مارچ 1922ء کو کوچۂ کشمیراں، امرتسر میں‌ پیدا ہونے والے سیف الدین سیف نے ابتدائی تعلیم مسلم ہائی اسکول سے حاصل کی۔ بعد میں‌ ایم اے او کالج امرتسر میں داخلہ لیا جہاں اس وقت کے پرنسپل ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر اور انگریزی کے لیکچرار فیض احمد فیض کی قربت نصیب ہوئی۔ اسی زمانہ میں‌ سیف صاحب کے علمی و ادبی ذوق میں نکھار آیا اور عملی زندگی میں‌ انھوں‌ نے فلم سے ناتا جوڑا۔ سیف نے فلمی مکالمے لکھے اور فلمیں‌ بنائیں، لیکن ان کا یہ سفر بطور گیت نگار بھی آگے بڑھا اور ان کی وجہ شہرت بنا۔ سیف کو شروع ہی سے شعر و سخن سے دل چسپی تھی۔ انھوں نے غزل کے ساتھ ساتھ رباعی، طویل اور مختصر نظمیں‌ کہیں‌ اور فلمی گیتوں کی بدولت خوب شہرت پائی۔

سیف الدین سیف نے فلم "تیری یاد” کے لیے نغمات لکھے جو تقسیم کے بعد پہلی پاکستانی فلم تھی۔ اس فلم میں ان کے تحریر کردہ چار گیت شامل تھے۔ سیف الدین سیف کا پہلا گیت جو سپر ہٹ ثابت ہوا اس کے بول تھے، "پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے” یہ اقبال بانو کی آواز میں‌ پاکستان ہی نہیں‌ بھارت میں‌ بھی بہت مقبول ہوا اور آج بھی باذوق افراد اسے سننا پسند کرتے ہیں۔ ان کے کئی دوسرے گیت بھی بہت مقبول ہوئے اور فلموں کی کام یابی کا سبب بنے جن میں فلم شمع اور پروانہ (1970) کا گیت "میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا اور "میں تیرے اجنبی شہر میں، ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تجھے بھی شامل ہیں۔ مشہور فلم امراؤ جان ادا کا یہ گیت "جو بچا تھا لٹانے کے لیے آئے ہیں” بھی اسی شاعر کا لکھا ہوا ہے۔ ان کی یہ غزل کئی گلوکاروں‌ نے گائی اور اپنے زمانے کی مقبول ترین غزلوں‌ میں‌ سے ایک ہے جس کا شعر ہے

مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کے روئے
مجھے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں