جرمنی ہی میں پہلی بجلی چمکی، کمیونسٹوں کو بدنام کرنے کے لیے ہٹلر اور اس کے ساتھیوں گوئیرنگ و گوئبلس وغیرہ نے سازش کر کے جرمن پارلیمنٹ کی عالی شان عمارت میں خود آگ لگوا دی (مارچ ۱۹۳۳ء) اور چند کمیونسٹ لیڈروں کو یہ کہہ کر گرفتار کروا لیا کہ یہ انہیں کی حرکت ہے۔ ان ملزمین میں ومتروف بھی تھا۔ یہ شخص بلگیریا کی کمیونسٹ پارٹی کا ایک لیڈر تھا جو ان دنوں برلن میں جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔
کئی مہینے حراست میں پڑے رہنے کے بعد جب مقدمہ شروع ہوا تو دفعتاً ساری دنیا کی نظریں شہر لائپزگ کے جرمن ہائی کورٹ کے ایک کمرے کی طرف منتقل ہوگئیں۔ ومتروف نے ایسے بیانات دیے جس کی وجہ سے نہ صرف اس نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کی بے گناہی ثابت کی۔ بلکہ جرمن فاشزم کو الٹا مجرم ٹھہرایا، اور ساتھ ہی اپنے اس غیرقانونی عقیدہ کا بھی اظہار کیا کہ جرمنی میں فاشزم ہمیشہ نہیں رہے گا اور ایک نہ ایک دن جرمن مزدور اپنے کندھوں سے سرمایہ داری کے بوجھ کو ضرور اتار پھینکے گا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ومتروف اور اس کے دوسرے ساتھیوں کی رہائی کے لیے امریکہ، انگلستان، فرانس وغیرہ میں مزدوروں کے بڑے بڑے مظاہروں کی خبریں آئیں، سرمایہ داروں کے اخبار بھی ومتروف کی بے گناہی کا اعتراف کرتے تھے، اور اس کی دلیری کی تعریف کرتے تھے کہ ہر طرح کی جسمانی اذیتوں اور سزاؤں کی دھمکیوں کے باوجود وہ کچہری میں حقیقت کا صاف صاف اظہار کرنے سے باز نہیں رہتا تھا۔
اب اہلِ علم میں بھی کچھ ہلچل ہونے لگی۔ جرمنی کے بڑے بڑے مصنفین (ٹامس مان، ٹولر وغیرہ) بین الاقوامی شہرت رکھنے والے سائنس داں (آئنسٹائن، ہابر وغیرہ) آرٹسٹ، ماہرین موسیقی، ڈاکٹر وغیرہ جلا وطن ہوکر بے سروسامانی کی حالت میں تھے ہی، اب ومتروف کے مقدمہ کے سلسلہ میں، اور جرمنی جلا وطنوں کی حمایت کے لیے مغربی یورپ اور امریکہ کے اہلِ علم، ادیب، غرض کہ اس طبقہ کے بہت سے لوگ جن کا پیشہ لکھنا، پڑھنا ہے، فاشزم کی مخالف تحریکوں میں کسی نہ کسی طرح سے کھنچتے چلے آرہے تھے۔
یہ احساس عام ہونے لگا کہ فاشزم کی وبا کا اگر تدارک نہ کیا گیا تو وہ جرمنی تک محدود نہ رہے گی، بلکہ یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی پھیل سکتی ہے۔ وہ حالات، فاشزم جن کا نتیجہ ہے، ان ممالک میں بھی تیزی سے پیدا ہو رہے تھے، جہاں نام نہاد جمہوریت تھی۔ یہاں بھی سرمایہ دار طبقہ جو ابھی تک جمہوریت کا نام لے کر محنت کشوں کا استحصال کرتا آیا تھا اپنے اس بھیس کو اتار پھینک کر، شہری آزادیوں کو کچل کر، مزدوروں کی ہر طرح کی تنظیم کو توڑ کر، اور تمام نیابتی اداروں کو خاک میں ملا کر، برہنہ آمریت کو اپنا سکتا تھا۔
چنانچہ فرانس میں دن بدن یہ خطرہ بڑھنے لگا۔ جرمنی کی طرح وہاں بھی مسلح فاشسٹ جھنڈ مزدوروں کے جلسوں اور جلوسوں پر حملے کرنے لگے۔ حکومت جانتی تھی کہ ان غیرقانونی کارروائیوں کے پیچھے لوہے اور کوئلے کی کانوں کے مالکوں، فولاد اور بجلی کے کارخانے والوں، بنکوں کے کرتا دھرتاؤں کی روپیوں کی تھیلیاں ہیں، لیکن وہ سرمایہ داروں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ان خلافِ قانون مظاہروں کو دیکھتی اور کچھ نہ کرتی۔
یکایک ایک دن خبر آئی کہ رجعت پسندوں نے فرانسیسی پارلیمنٹ پر حملہ کر دیا، پیرس میں ایک جم غفیر نے چیمبر آف ڈیپوٹیز (ایوان پارلیمنٹ کو گھیر لیا، وزارت نے خوف زدہ ہو کر استعفیٰ دے دیا، اور پہلے سے زیادہ رجعت پسند وزارت بن گئی۔ اس واقعہ نے سب کی آنکھیں کھول دیں۔ لوگ پوچھنے لگے کہ کیا ہٹلر کی طرح اس حریت، مساوات، اخوت کی جنم بھومی میں بھی سرمایہ دارانہ آمریت کا بول بالا ہوگا؟
مزدور جماعت نے اس سوال کا فوراً جواب دیا۔ فرانس میں زبردست عام ہڑتال ہوئی، کمیونسٹ لوگوں نے ’’متحدہ محاذ‘‘ کا نعرہ بلند کیا اور سوشلسٹ اصلاح پسند لیڈروں کے باوجود مزدور سبھاؤں میں اتحاد و یکجہتی نظر آنے لگی۔ ہر مزدور یہ سمجھنے لگا کہ اگر ان میں ایکا ہو تو ان کی طاقت ایک مشین پر دار و مدار رکھنے والی معاشرت میں فیصلہ کن ہوسکتی ہے۔ فرانس کے مزدوروں کی عام ہڑتال نے تمام آزادی پسندوں کے دلوں کو مضبوط کیا اور فرانس میں اس واقعہ کے بعد جیسے نئی زندگی کے آثار نظر آنے لگے۔ اب رجعت پسند جماعتیں پسپا ہونے لگیں، اور مزدور جماعت کے اتحاد، ڈسپلن اور عملی قوت نے درمیانی طبقوں کو بھی اپنی طرف مائل کرنا شروع کیا۔
اُدھر یہ ہو رہا تھا، اِدھر آسٹریا میں ایسے واقعات ہوئے جو المناک ہوتے ہوئے بھی انقلابی تابناکی رکھتے تھے۔ صلح نامہ ورسائی نے آسٹریا کو کانٹ چھانٹ کر ایک چھوٹی سی ریاست بنا دیا تھا۔ ایک ایسی ریاست جو اپنی معاشی مشکلات کی وجہ سے یورپ کی کسی نہ کسی بڑی سلطنت کے زیر اثر ہوئے بغیر قائم نہیں رہ سکتی تھی۔ ہٹلر اور مسولینی کے عروج کے بعد فرانسیسی سامراج کا اقتدار وسطی یورپ اور بلقان میں گھٹتا جارہا تھا۔
آسٹریا پر اب اٹلی اور جرمنی دونوں للچائی نظریں ڈالنے لگے۔ عام اقتصادی بحران وہاں بھی اپنے اثرات پیدا کر رہا تھا۔ وہ جمہوری نظام جو صلح نامہ و رسائی کے بعد آسٹریا میں ناقد کیا گیا تھا (یعنی وہ نظام جو سرمایہ پرستی پر جمہوریت کی نقاب ڈالتا ہے) لڑکھڑا رہا تھا۔ حتّٰی کہ ایک دن اخباروں میں یہ خبر چھپی کہ آسٹریا کا دستورِ اساسی منسوخ ہوگیا۔ پارلیمنٹ ہمیشہ کے لیے برخاست کردی گئی۔ میونسپلٹیوں کے ہاتھ سے سب طاقت چھین لی گئی، ایک پستہ قد انسان ڈالفس، نے اپنے اکیلے ہاتھوں میں سلطنت کی باگ ڈور لے لی! یعنی یورپ کے ایک اور ملک میں فاشیت قابض ہوگئی۔ اسی کے ساتھ ہی یا کچھ ہی دن بعد دوسری خبر: ویئنا، لنز، گراتز، آسٹریا کے بڑے صنعتی شہروں کے مزدوروں نے غاصب حاکم کے جابرانہ احکام ماننے سے کردیا۔ ڈالفس نے مزدوروں کی جماعتوں سے تمام ہتھیار چھین لینے کا حکم دیا، اس پر مزدوروں اور سرکاری فوجوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ مزدور بڑی بہادری سے لڑ رہے ہیں، شہر کے بہت سے حصوں پر وہ قابض ہوگئے۔ پھر دوسری خبریں: حکومت کے پاس بہتر اسلحہ جات ہونے کی وجہ سے مزدور پسپا ہو رہے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب ان کے جینے کی امید باقی نہیں وہ بڑی بہادری سے لڑتے جارہے ہیں۔ آخر میں شکست، لیکن فاتح کی خونی کامیابی اور اس کے مظالم کی شدت سے مزدور جماعت کی طاقت کا اندازہ ہوتا تھا۔
ہمیں محسوس ہونے لگا کہ فاشیت کی گو آج جیت ہوئی ہے، لیکن دوسری طرف محنت کشوں کا انقلابی شعور بڑھ رہا ہے! انہیں ناکامیوں کا تجربہ کامیاب انقلاب کو ممکن بنائے گا!
ومتروف کا مقدمہ، فرانس کے مزدوروں کی بیداری، آسٹریا کا ناکام مزدور انقلاب، آج ان واقعات کی اہمیت اکثر لوگوں کے لیے کچھ نہیں، لیکن ہمارے لیے بہت تھی۔ یہ تو بالکل ظاہر معلوم ہوتا تھا کہ انسانیت کے لیے بہت دنوں تک امن، سکون، چین کا خاتمہ ہوگیا۔ بڑی سخت کشاکش، جدوجہد، بین الاقوامی جنگ، انقلاب کے دور کا آغاز، ہم اپنے چاروں طرف دیکھ رہے تھے۔ کیا آدمیت کبھی بھی اس سیلاب آتش و آہن سے نجات حاصل کر سکے گی؟ اور کیا یہ ممکن تھا کہ ہم نوجوان، جن کی رگوں میں زندگی کا گرم خون گردش کر رہا تھا، اپنے کو اس طوفان سے بچا سکیں گے؟
ہم رفتہ رفتہ سوشلزم کی طرف مائل ہوتے جارہے تھے۔ ہمارا دماغ ایک ایسا فلسفہ کی جستجو میں تھا، جو ہمیں سماج کی دن بدن بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور ان کے سلجھانے میں مدد دے سکے۔ ہمیں اس بات سے اطمینان نہیں ہوتا تھا کہ انسانیت پر ہمیشہ سے مصیبتیں اور آفتیں رہی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ مارکس اور دوسرے اشتراکی مصنفین کی کتابیں ہم نے بڑے شوق سے پڑھنا شروع کیں۔ جیسے جیسے ہم اپنے مطالعہ کو بڑھاتے آپس میں بحثیں کرکے تاریخی، سماجی، فلسفیانہ مسئلوں کو حل کرکے، اسی نسبت سے ہمارے دماغ روشن ہوتے۔ اور ہمارے قلب کو سکون ہوتا جاتا تھا۔ یونیورسٹی کی تعلیم ختم کرنے کے بعد یہ ایک نئے لامتناہی تحصیل علم کی ابتدا تھی!
ہمارے چھوٹے سے گروہ میں اکثر مصنف بننا چاہتے تھے اور کرتے بھی کیا؟ مزدوری کرنے کی ہم میں اہلیت نہ تھی۔ کسی قسم کا ہنر ہم نے سیکھا نہ تھا، سامراجی سرکار کی نوکری کے خیال سے گھن آتی تھی تو پھر باقی کیا رہا؟ کافر نتوان شد، ناچار مسلمان شد۔
(مارکسی دانشور اور کمیونسٹ لیڈر سجاد ظہیر کے بیرونِ ملک اپنے قیام کے زمانہ کے چند واقعات اور یادوں پر مشتمل مضمون سے منتخب پارے)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


