The news is by your side.

Advertisement

داعش کے ظلم کا شکار عراقی خواتین کے لیے یورپ کا اعلیٰ ترین اعزاز

اسٹارسبرگ: داعش کی قید سے رہائی پانے والی دو یزیدی خواتین کو یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی جانب سے سخاروف پرائز سے نوازا جارہا ہے۔

سخاروف انعام برائے آزادی اظہار ایک روسی سائنسدان آندرے سخاروف کی یاد میں دیا جانے والا انعام ہے۔ اس کا آغاز دسمبر 1988 میں یورپی پارلیمنٹ نے ان افراد کے لیے کیا جنہوں نے آزادی اظہار، انسانی حقوق کی بالادستی اور تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کردیا اور نتیجہ میں انہیں حکمران طبقوں یا حکومت کی جانب سے سختیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں: افغان خواتین کی غیر قانونی قید ۔ غیر انسانی مظالم کی دردناک داستان

رواں برس یہ ایوارڈ دو یزیدی خواتین نادیہ مراد طحہٰ اور لامیا حاجی بشر کو دیا جائے گا۔ یہ دونوں خواتین داعش کی ظالمانہ قید سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئیں جس کے بعد اب یہ عراق کے اقلیتی مذہب یزید کو بچانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

اس انعام کے لیے ترکی کے ایک جلا وطن صحافی کان دندار اور کریمیا میں اقلیتی طبقے کے حقوق کے لیے سرگرداں سماجی کارکن مصطفیٰ جمیلاو کو بھی نامزد کیا گیا تاہم انعام کی حقدار یہ دونوں خواتین قرار پائیں۔

گزشتہ برس یہ انعام سعودی بلاگر رائف بداوی کو دیا گیا تھا۔ بداوی نے سنہ 2008 میں سعودی عرب میں ’لبرل سعودی نیٹ ورک‘ کے نام سے ایک آن لائن فورم تشکیل دیا تھا جس کا مقصد سعودی عرب میں مذہبی اور سیاسی معاملات پر بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

saudi

بداوی کی اس کوشش کو توہین مذہب کا نام دیا گیا اور اس کی پاداش میں اسے دس سال قید اور ایک ہزار کوڑے مارے جانے کی سزا سنائی گئی۔

نادیہ مراد طحہٰ کون ہیں؟

عراق کے اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ نادیہ کی زندگی اس وقت ایک بھیانک خواب بن گئی جب 2014 میں داعش نے عراق کے یزیدی قبیلے کو کافر قرار دے کر عراقی شہر سنجار کے قریب واقع ان کے اکثریتی علاقہ پر حملہ کیا اور ہزاروں یزیدیوں کو قتل کردیا۔

داعش کے جنگجو سینکڑوں ہزاروں یزیدی خواتین کو اغوا کر کے اپنے ساتھ موصل لے گئے جہاں ان کے ساتھ نہ صرف اجتماعی زیادتی کی گئی بلکہ وہاں ان کی حیثیت ان جنگجؤں کے لیے جنسی غلام کی ہے۔

مزید پڑھیں: فٹبال کے ذریعے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ۔ افغانستان کی خالدہ پوپل

اغوا ہونے والی خواتین میں ایک نادیہ بھی تھیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ داعش کے جنگجؤں نے ان کے ساتھ کئی بار اجتماعی زیادتی کی جبکہ انہیں کئی بار ایک سے دوسرے گروہ کے ہاتھوں بیچا اور خریدا گیا۔

وہ کہتی ہیں، ’میں خوش قسمت ہوں کہ وہاں سے نکل آئی۔ مگر وہاں میری جیسی ہزاروں لڑکیاں ہیں جنہیں بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ملا اور وہ تاحال داعش کی قید میں ہیں۔

نادیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش ہو کر اپنی کہانی سنا چکی ہیں جس نے وہاں موجود تمام افراد کو رونے پر مجبور کردیا۔

nadia-2

وہ ایک عرصے سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ 2014 میں ان کے گاؤں پر ہونے والے داعش کے حملہ کو یزیدیوں کا قتل عام قرار دیا جائے، داعش کی قید میں موجود خواتین کو آزاد کروایا جائے اور داعش کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے جس میں انہیں شکست ہو، اور اس کے بعد داعشی جنگجؤں کو جنگی مجرم قرار دے انہیں عالمی عدالت میں پیش کیا جائے۔

گزشتہ ماہ نادیہ کو اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر بھی مقرر کیا گیا ہے جس کے بعد اب وہ دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ کا شکار، خاص طور پر مہاجر لڑکیوں اور خواتین کی حالت زار کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کریں گی۔

nadia-2

دوسری جانب لندن کی مشہور وکیل برائے انسانی حقوق اور ہالی ووڈ اداکار جارج کلونی کی اہلیہ امل کلونی نے عالمی عدالت برائے جرائم میں داعش کے یزیدی خواتین پر مظالم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نادیہ مراد کی جانب سے دائر کیے جانے والے اس کیس کے بعد اب یہ دونوں خواتین اس مہم پر ہیں کہ عالمی طاقتوں کو داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے پر زور دیا جائے۔

nadia-3

واضح رہے کہ داعش کی قید میں موجود خواتین اس وقت انسانی تاریخ کے بدترین المیہ کی مثال ہیں۔ یہ خواتین داعش کے لیے جنسی غلام یعنی سیکس سلیوز کی حیثیت رکھتی ہیں جن کا مقصد داعش جنگجؤں کی نسل میں اضافہ کرنا ہے۔

جو خواتین اپنے جنسی استحصال سے انکار کردیتی ہیں، انہیں داعش کی جانب سے بدترین اور بھیانک سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں سے ایک سزا زندہ جلایا جانا بھی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق داعش نے 7 ہزار خواتین کو اغوا کرکے غلام بنایا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق عراق کے یزیدی قبیلے سے ہے۔ مختلف ممالک سے کچھ خواتین اپنی مرضی سے داعش میں شمولیت اختیار کرنے آئی ہیں تاہم داعش کی جانب سے غیر انسانی سلوک کے باعث اب یہ بھی اس قید سے رہائی چاہتی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں