منگل, اپریل 14, 2026
اشتہار

صلاح الدین ایوبی نے اپنی وصیت میں کیا لکھا؟

اشتہار

حیرت انگیز

صلیبی جنگوں کے فاتح کو پورا یورپ صلادین کہتا ہے اور ہم انہیں صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانتے ہیں، جنہوں نے اپنی تلوار سے اور اس کے بغیر بھی دنیا کے دل جیت لیے۔

کہا جاتا ہے کہ صلاح الدین ایوبی جوانی میں بہت بے فکر اور ٹھنڈے مزاج کے انسان تھے، وہ ایک عالم دین بننا چاہتے تھے یا پھر قاضی، لیکن قسمت نے اسے تاریخ کا سب سے بڑا فاتح بنا دیا۔

اس عظیم فاتح کی موت بھی اس انداز میں ہوئی کہ اس نے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کردیا، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی موت سے قبل یہ حکم دیا تھا کہ مجھے کفن پہنانے سے پہلے کفن کو نیزے پر رکھ کر پورے لشکر میں گھما کر یہ اعلان کیا جائے کہ دیکھو مشرق کا فاتح اپنے ساتھ قبر میں سوائے اس کپڑے کے ٹکڑے کے سوا کچھ لے کر نہیں جارہا۔

صلاح الدین ایوبی نے نہ صرف اپنی تمام تر دولت بلکہ پوری زندگی امت مسلمہ کے اتحاد اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے وقف کردی تھی، وہ شخص جو مصر شام و حجاز کا مالک تھا اس کے ذاتی خزانے میں کچھ نہیں تھا انہوں نے ترکہ میں ایک دینار اور 36 درہم چھوڑے تھے۔

انہوں نے اپنی زندگی بادشاہوں کی طرح گزاری اور دنیا سے ایک فقیر کی مانند رخصت ہوئے، دشمنوں پر ان کے خوف کا یہ عالم تھا کہ ان جانے کے 700 سال بعد تک دنیا کی کوئی طاقت بیت المقدس نہ چھین سکی۔

Salahuddin Ayyubi

سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی کے آخری ایام دمشق میں شدید بیماری کی نذر ہوئے، جہاں 4 مارچ 1193ء کو 54-55 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا، انہیں دمشق میں ہی اموی مسجد کے قریب دفن کیا گیا۔

بیت المقدس کی فتح کے بعد بھی وہ طویل جنگی مہمات میں مصروف رہے، جس نے انہیں جسمانی طور پر کمزور کر دیا تھا لیکن انہوں نے اپنی تمام تر دولت غریبوں میں بانٹ دی تھی۔

ان کی وفات پر دمشق میں زبردست سوگ منایا گیا کیونکہ وہ نہ صرف ایک فاتح بلکہ ایک عادل اور محبوب حکمران تھے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں