کراچی (13 جنوری 2026): آج کل ہر شہری یہ کہتا نظر آتا ہے کہ گزارا نہیں ہو رہا تو پاکستانی عوام کی تنخواہ یا آمدنی آتے ہی کہاں غائب ہو جاتی ہے۔
آج کل پاکستان کا ہر شہری بالخصوص متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص پریشان ہے۔ کاروباری ہوں یا ملازمت پیشہ، تقریباً ہر فرد کا یہی کہنا ہے کہ ان کا گزارا نہیں ہوتا۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے اور ان کی تنخواہ یا آمدنی آتے ہی کہاں غائب ہو جاتی ہے؟
اس کا جواب ہاؤس ہولڈ انٹگریٹڈ اکنامک سروے میں دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں عام شہری مہنگائی اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کی لپیٹ میں ہے اور ان کی آمدنی کا دو تہائی حصہ صرف خوراک اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں ہی خرچ ہو جاتا ہے جب کہ ترسیلات زر پر ان کا انحصار بڑھ رہا ہے۔
اس سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عام شہری زندگی کی بنیادی ضرورت خوراک اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے بعد جو ایک تہائی آمدنی بچتی ہے، اس میں زندگی کی دیگر ضروریات پورا کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
سروے کے مطابق شہری تعلیم پر صرف 2.5 فیصد رقم خرچ کرتے ہیں، جو رہائشی اخراجات کے نصف سے بھی کم ہے، جب کہ گھریلو آمدنی میں بیرون ملک ترسیلات زر کا حصہ 5 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 8 فیصد ہو گیا ہے۔
یہ سروے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں عام شہری کے لیے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اور مستقبل دونوں کو متاثر کیا ہے۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ روزگار کے مواقع کے نہ ملنے کی وجہ سے نوجوان اور باصلاحیت افراد ملک چھوڑ رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


