جمعرات, دسمبر 11, 2025
اشتہار

الامین گروپ کے سلیم احمد اور "یہ مسلم لیگی”

اشتہار

حیرت انگیز

اردو ادب کی ہمہ جہت شخصیت سلیم احمد کی کتاب سے یہ اقتباس اس دور کی یاد تازہ کرتا ہے جب ہندوستان کے مسلمان گھرانوں کا ہر بچّہ خود کو اسلام کا سپاہی سمجھتا اور انگریزوں‌ سے آزادی کا خواب دیکھتا تھا۔

سلیم احمد جدید اردو ادب کی اہم شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ اردو تنقید میں ان کا بلند مقام ہے اور انھیں اسکرین پلے، ڈرامہ نگار اور شاعر کے ساتھ ایسی نظریاتی شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا ہے جس نے اپنے دور میں ذہنوں کو بہت متاثر کیا۔ لیکن ان کا بچپن اور نوعمری ہندوستان میں آزادی کی تحریکوں اور انقلاب کے ترانوں‌ کے ساتھ بٹوارے کی حمایت اور مخالفت سنتے ہوئے گزری تھی۔

میرٹھ میں ان کی حسن عسکری سے ملاقات ہوئی اور ان کے نظریات کا انھوں نے گہرا اثر قبول کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور یہاں‌ ملازمت کے ساتھ تخلیقی سفر جاری رکھا۔ سلیم احمد کا انتقال ۱۹۸۳ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی ایک کتاب بعنوان مشرق سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:

منجھلے تایا کی عادت تھی کہ رات کے کھانے کے بعد مجھے آواز دیتے اور حقہ لانے کے لئے کہتے تھے۔ پھر گھر کے سارے لوگوں کو جمع کر کے واقدی کی فتوحُ الشّام کھول کر بیٹھ جاتے اور اپنی پاٹ دار آواز میں اسلامی فتوحات کی داستانیں سنایا کرتے تھے۔

حضرت خالد بن ولید، حضرت ضرّار بن ازدر حضرت شرجیل بن حسنہ کے نام روز میرے کانوں میں پڑتے اور منجھلے تایا کے سنانے کا انداز کچھ ایسا تھا کہ دل میں جوش پیدا ہو جاتا۔ میں دل میں سوچا کرتا کہ کاش اک بار پھر وہ زمانہ لوٹ آئے۔ اسلامی لشکر فتوحات کے لئے نکلیں اور میر ننھا سا خواب یہ تھا کہ میں بھی اس لشکر کے ساتھ ہوں اور میرا نام بھی مجاہدوں میں شامل ہے۔

ٹھیک یہی زمانہ تھا جب ایک واقعہ کا میری زندگی پر گہرا اثر پڑا۔ منجھلے ابّا کے بیٹے جن کا نام اشفاق حسین ہے اور جنھیں ہم پتّن بھائی کہتے ہیں مجھے خاکساروں کا ایک مظاہرہ دکھانے لے گئے جس میں مصنوعی جنگ کا پروگرام بھی شامل تھا۔ شام کا وقت تھا خاکسار اپنی وردیوں میں بیلچے لگائے، چَپ راست کرتے ہوئے جنگی مظاہرہ کر رہے تھے کہ تیز بارش شروع ہوگئی مگر تماشائیوں کے جوش و اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ کوئی آدمی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوا۔ مجھے یہ سارا منظر اب تک یاد ہے۔ میں اس میں ڈوب سا گیا تھا۔ مظاہرہ کرنے والوں میں ایک گیارہ بارہ برس کا بچہ بھی شامل تھا۔ سرخ و سفید سرحدی بچّہ۔ اپنی خوبصورت وردی میں ننھا سا بیلچہ لگائے مجھے اتنا اچھا لگا کہ میں دعا مانگنے لگا کہ کاش اس کی طرح‌ میں بھی خاکسار تحریک کے مجاہدوں میں شامل ہو جاؤں، تب سے خاکسار تحریک سے مجھے شدید دل چسپی پیدا ہو گئی۔ خاکسار مجاہدین میری نظر میں خالد بن ولید کے جدید لشکر کا نیا روپ تھے۔ بعد میں کانگریس حکومت نے خاکساروں پر گولی چلائی جس میں متعدد خاکسار شہید ہوئے۔ اس واقعہ نے خاکساروں سے میری دل چسپی اور ہمدردی کو عشق تک پہونچا دیا۔

ہمارے محلّے میں ایک خاکسار ہوتے تھے جن کے پاس علامہ مشرقی کا اخبار الاصلاح آتا تھا۔ میں نے اُن سے لے کر وہ اخبار پڑھنا شروع کر دیا اور اُن سے علاّمہ اور ان کی تحریک کی باتیں سننے اور کرنے لگا۔ خاکسار تحریک سے میری یہی دل چسی تھی جو میرٹھ میں‌ پروفیسر کرار حسین سے میرے تعلق کی بنیاد بنی، میں جب لکھنؤ سے میرٹھ آیا تو میرے ایک دوست نعیم قریشی مرحوم جو خود بھی خاکسار تھے، پروفیسر کرار صاحب سے میری ملاقات کا سبب بنے اور میں اس گروپ میں شامل ہو گیا جسے میرٹھ میں الامین، گروپ کہا جاتا تھا۔ اختر حمید خان، اختر حامد خان، رؤف صاحب، یونس منصور یہ سب لوگ اسی گروپ کے روح رواں تھے۔ اختر حامد خاں سے مجھے ایک خصوصی تعلق پیدا ہوگیا۔ یونس منصور اب بھی ملتے ہیں تو سارا ماضی زندہ ہو جاتا ہے۔

خاکسار، مسلم لیگ سے خوش نہیں تھے اور الامین کا انٹلیکچوئل گروپ تو مسلم لیگی ذہنیت ہی سے بیزار تھا۔ مجھے خود مسلم لیگی قیادت اچھی نہیں لگتی تھی اور میں انہیں ٹوڈی، کاسہ لیس، مطلب پرست اور انگریزوں کا ایجنٹ سمجھا کرتا تھا۔ کرّار صاحب کی رہائش گاہ پر ہم لوگ رات کو جمع ہوتے تو گفتگو کا ایک حصہ مسلم لیگ کی تنقید کے لئے بھی وقف ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ میں بھی مسلم لیگیوں کو "یہ مسلم لیگی” کہہ کر ان کا مذاق اڑانے میں پیش پیش ہوتا تھا۔ مسلم لیگ کے پاکستان کی جگہ میرا نصب العین پورے برصغیر میں خلافتِ اسلامیہ کا قیام تھا۔ کیوں اور کیسے یہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا لیکن خاکسار تحریک کی عسکریت شاید لاشعوری طور پر میرے ذہن میں اسی سوال کا جواب تھی۔

اپنی کتاب مشرق کے ابتدائی صفحات میں‌ سلیم احمد آگے چل کر یہ بتاتے ہیں‌ کہ کس طرح ان کی سوچ میں تبدیلی آئی اور وہ قیامِ پاکستان کے حامی بنے۔ ملاحظہ ہو:

میرٹھ جمعیت العلمائے ہند کے زیر اثر تھا اور مولانا مدنی کی وہاں بڑی مان دان تھی۔ مولانا عثمانی نے جب اپنے پہلے جلسے کی تقریر کی تو پورا میرٹھ امڈ پڑا اور ایک تقریر نے ہوا کا رخ بدل دیا۔ اگلی صبح سارا شہر مولانا عثمانی کے گن گا رہا تھا۔ یہ تقریر میری زندگی میں ایک بنیادی تبدیلی کا سبب ثابت ہوئی۔ مسلم لیگ اور پاکستان کے بارے میں عسکری صاحب نے میرے خیالات کو پہلے ہی متاثر کر دیا تھا۔ مولانا عثمانی کی تقریر نے مجھے بالکل بدل کر رکھ دیا۔ اگلی صبح میں کچھ طالب علموں کے ساتھ مولانا عثمانی سے ملنے گیا۔ مولانا عثمانی نے میری بات سن کر صرف ایک بات کہی، تم خلافتِ اسلامیہ چاہتے ہو؟ یہ بتاؤ کہ اس کا امکان وہاں زیادہ ہے جہاں ہندو اکثریت میں ہوں یا وہاں زیادہ ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو؟ بس یہ بات سن کر مجھے محسوس ہوا کہ میرے ذہن کی قلبِ ماہیّت ہو گئی ہے۔ مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا۔ میں ان کے پاس سے لوٹا تو پورا مسلم لیگی بن چکا تھا اور پاکستان میرے نصب العین کا حصہ ہو گیا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں