جمعہ, دسمبر 5, 2025
اشتہار

عوام سے سب سے زیادہ سیلز ٹیکس بجلی پر وصول کیا گیا یا پٹرول پر؟

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (11 نومبر 2025) وزارت خزانہ کی جانب سے مالی سال 25-2024 میں سیلز ٹیکس وصولی کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے مالی سال 25-2024 میں سیلز ٹیکس وصولی کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق سیلز ٹیکس وصولی میں 15 شعبہ بڑے حصہ دار رہے۔

مقامی سیلز ٹیکس وصولی 1619 ارب 50 کروڑ روپے رہی جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 32.40 فیصد زیادہ ہے جب کہ درآمد پر سیلز ٹیکس وصولی 2281 ارب 90 کروڑ روپے رہی جس میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 22.40 فیصد اضافہ ہوا۔

مقامی فروخت پر سیلز ٹیکس کی مجموعی وصولی 57 فیصد حصہ 15 بڑے شعبوں نے فراہم کیا۔ ان میں بجلی، پٹرولیم مصنوعات، چینی، سیمنٹ، کاٹن یارن، قدرتی گیس، سگریٹ، موٹر کار، چائے، مشروبات، فوڈ پروڈکٹس، بسکٹس، ریفریجریٹر اور موٹر سائیکل سیکٹرز شامل ہیں۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق شعبہ بجلی کا سیلز ٹیکس وصولی میں سب سے بڑا حصہ ہے۔ بجلی پر مقامی سیلز ٹیکس وصولی 460 ارب 55 کروڑ روپے رہی۔

گاڑیوں پر سیلز ٹیکس وصولی میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 159 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور گاڑیوں کی فروخت ایک لاکھ 11 ہزار 402 یونٹس رہی جب کہ موٹر سائیکلوں پر سیلز ٹیکس کی وصولی میں 136 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کی مالی سال 25-2024 میں فروخت 15 لاکھ 18 ہزار 752 یونٹس رہی۔

تمام بڑے محصولات پیدا کرنے والی اشیا میں مثبت نمو دیکھی گئی۔ تاہم سگریٹ اور پٹرولیم مصنوعات کی رواں مالی سال میں کمی واقع ہوئی۔ پٹرولیم مصنوعات کا حصہ گزشتہ مالی سال میں 6.9 فیصد رہا تھا جو 25-2024 میں کم ہو کر 2.6 فیصد ہو گیا۔

مالی سال 25-2024 میں سیلز ٹیکس درآمد وفاقی محصولات کا ایک اہم جزو رہا اور درآمدات میں پٹرولیم مصنوعات سیلز ٹیکس کا سب سے بڑا ذریعہ رہیں۔ ان پر ٹیکس وصولی 315 ارب روپے رہی جو گزشتہ مالی سال کی نسبت 13.80 فیصد اضافہ ہوا۔

پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں اضافے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں