The news is by your side.

Advertisement

پنجاب میں متوقع نئے بلدیاتی نظام کے خدوخال سامنے آ گئے

لاہور : پنجاب میں متوقع نئے بلدیاتی نظام کے خدوخال سامنے آگئے، ضلعی ناظم کا پارٹی بنیاد جبکہ ویلج ناظم کا نان پارٹی بنیاد پر براہ راست انتخاب ہوگا جبکہ نئے نظام میں صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 33 فیصد بلدیاتی حکومت کو دیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں متوقع نئے بلدیاتی نظام کے خدوخال سامنے آگئے ہیں، جس کے مطابق نئے نظام میں ضلع کونسل اور ویلج کونسل تشکیل دی جائے گی جبکہ زونز اور تحصیل ایڈمنسٹریشن ختم کر دی جائے گی۔

نئے بلدیاتی نظام میں ناظم کے ساتھ نائب ناظمین کا انتخاب پینل کی صورت میں ہوگا، صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 33 فیصد بلدیاتی حکومت کو دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال میں صوبائی ترقیاتی فنڈ کا تخمینہ چارسو ارب لگایا گیا ہے، جس میں سے 140 ارب بلدیاتی حکومتوں کو دینے کی تجویز ہے، بلدیاتی حکومت کو ملنے والے فنڈز میں سے تقریبا 50 ارب ویلج کونسلز کو دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ضلعی ناظم اور ویلج ناظم کا انتخاب براہ راست ہو گا، ڈسٹرکٹ کونسل ناظم کاانتخاب پارٹی کی بنیاد پرہوگا جبکہ ویلج کونسل کے ناظم کا انتخاب نان پارٹی بیس پر ہو گا۔

ضلعی وویلج کونسل بنائی جائیگی، زونزوتحصیل ایڈمنسٹریشن ختم کر دی جائے گی، نئے بلدیاتی نظام میں ویلج ناظم ڈسٹرکٹ اسمبلی کا ممبر ہوگا، ویلج کونسل کا نائب ناظم ٹاؤن کی سطح پر میونسپل کمیٹی کے امور کو سر انجام دے گا جبکہ نائب ناظم کا ہاؤس نہیں ہو گا، جیسے پہلے نظام میں تحصیل ناظم اسمبلی کا ممبرہوتا تھا۔

ذرائع کے مطابق نئے بلدیاتی نظام کے تمام نکات وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق نومبر کے آخر تک مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : وزیرِ اعظم کی آئندہ 48 گھنٹوں میں لوکل باڈیز نظام کو حتمی شکل دینے کی ہدایت

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے پنجاب کو 48گھنٹے میں تجاویز مکمل کرنے کی ہدایت نہیں کی، بلدیاتی نظام میں ترمیم سے متعلق اجلاس میں کے پی نمائندے بھی شریک تھے۔

عمران خان نے کے پی نمائندوں کو 48 گھنٹے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی اور مختلف کمپنیز کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ کی کیبنٹ میٹنگ میں زیر غور آئے گا۔

یاد رہے چند روز قبل وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ آئندہ 48 گھنٹے میں لوکل باڈیز نظام کو حتمی شکل دی جائے گی، حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں