The news is by your side.

Advertisement

وہ ملکہ جو شہنشاہ اکبرپرحکومت کرتی تھی

برصغیرکا سب سے عظیم فرمانروا ، اور مغل حکمرانوں میں سب سے طاقت ور جلال الدین محمد اکبر اپنے حرم میں موجود جس خاتون کی رائے کا سب سے زیادہ احترام کرتے تھے، ان کا نام سلیمہ سلطان بیگم تھا، یہ واحد خاتون تھیں جو ’جلالِ اکبری‘ کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت رکھتی تھیں اور اپنی اس قوت کا مظاہرہ انہوں نے شہزادہ سلیم اور شہنشاہ اکبر کے درمیان ہونے والی جنگ کے موقع پر بخوبی کیا۔

سلیمہ ،مغل شہنشاہ اکبر اعظم کی دوسری بیوی،اور اکبر کے تین خاص بیگمات میں سے ایک ہیں۔ وہ 23 فروری 1539، کو پیدا ہوئی تھیں ۔ سلیمہ بیگم رشتے میں اکبر کے والد اوردوسرے مغل بادشاہ ہمایوں کی بھتیجی تھیں۔

سلیمہ بیگم جلالِ اکبری کو روکنے کی حیرت انگیز قوت کی حامل تھیں

قرون وسطیٰ کے مورخین نے انہیں ان کے اخلاق ، علمی مرتبے ، شعری ذوق اور اکبر کے حکومتی معاملات میں ا ن کی جانب سے دیے گئے مشوروں کے سبب انہیں تاریخ کے اوراق میں جگہ دی ہے۔ وہ ’مخفی‘ تخلص سے شعر کہا کرتی تھیں۔ ان کا شمار اکبر کی سب سے خاص بیگمات میں سے ہوتا تھا، باقی دو بیگمات جو اہمیت کی حامل تھی ان میں رقیہ سلطان جو کہ سلیمہ بیگم کی کزن تھیں ، جبکہ مریم الزمانی بیگم شامل ہیں، مریم زمانی کو تاریخ جودھا بیگم کے نام سے یاد کرتی ہے۔

ہمایوں نے اپنے سپاہ سالار بیرم خان سے وعدہ کیا تھا کہ ہندوستان ان کی قلم رو میں شامل ہوگیا تو وہ اپنی بھتیجی سلیمہ بیگم ان کے عقد میں دیں گے، بیرم خان نے شمشیر کے زور پر ہندوستان فتح کیا تو ہمایوں کا وعدہ نبھایا گیا۔ اس وقت بیرم خان کی عمر پچاس سے زائد تھی جبکہ سلیمہ بیگم انتائی کم سن تھیں، یہ شادی اکبر کے دورِ حکومت میں انجام پائی تھی۔ بعد ازاں بیرم خان نے اپنے کچھ مصاحبوں کے بہکاوے میں آکر شہنشاہ سے بغاوت کردی اور شکست یاب ہوئے۔ اکبر نے ان کے تمام اعزازات اور اختیارات واپس لیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ ایک بڑی جاگیر لیں اور دہلی سے دور ہوجائیں، ایک عام مصاحب کی طرح اکبر کے دربار میں رہیں، یا پھر مکے کی جانب روانہ ہوجائیں۔ بیرم خان نے تیسرا آپشن قبول کیا ، لیکن سفر کے دوران افغان لٹیروں کے حملے میں مارے گئے۔

اس وقت تک سلیمہ بیگم، بیرم خان کے ایک بیٹے رحیم خان کی ماں بن چکی تھیں، ا کبر نے قریبی تعلق داری کے سبب انہیں اپنے نکاح میں لے لیا، بعد ازاں شہنشاہ ان کی قابلیت سے اتنا متاثر ہوا کہ ہر اہم معاملے میں ان سے مشورے کرنے لگا۔ اکبر کو ہمیشہ سلیمہ بیگم کی فیصلے پر فخر ہوتا اور چین و سکون پاتے ، اس لیے سلیمہ بیگم کو خیرالمشیرہ یعنی اچھا مشورہ دینی والی بھی کہاجاتا ہے۔

سلیمہ خاتون کا حرم میں تمام لوگوں سے عمدہ تعلق قائم تھا۔ رقیہ سلطان بیگم ان کی رشتے کی بہن تھی اس لیے وہ ان کا بھی خیال رکھتی تھیں، اس کے علاوہ مریم الزمانی (جودھا بائی) کے ساتھ بھی اچھا سلوک تھا اور وہ ان کی ایک اچھی دوست تھی۔

جب شہزادہ سلیم نے اکبر بادشاہ کے خلاف بغاوت کی اور الہ ٰ آباد میں اپنی علیحدہ عدالت قائم کرکے ’سلیم شاہ‘ کا لقب اختیار کیا تو اکبر کا غضب دیکھنے والا تھا۔ تین سال تک باپ بیٹے کے درمیان معرکہ آرائی ہوتی رہی یہاں تک کہ سلیم نے اکبر کے قریبی دوست اور سب سے اہم مشیر ابو الفضل کو قتل کرانے کی بھی کوشش کی۔ یہ ایسا دور تھا کہ دنیا کی طاقت سلیم کی حمایت میں اکبر کے سامنے جانے کی ہمت نہیں کررہی تھی ۔بالاخر سلیمہ بیگم شہزادے کی حمایت میں آگے آئیں اور جلالِ اکبر ی کو ٹھنڈا کرکے سلیم کے لیے معافی کا پروانہ حاصل کیا اوراسے لے کر خود شاہی جاہ و حشم کے ساتھ الہٰ آباد روانہ ہوئیں۔

اکبر کے انتقال کے بعد ایک بار پھر جہانگیر کے دور میں ان کا سیاسی اثرو رسوخ دیکھنے میں آیا، جب اکبر کے رضاعی بھائی مرزا عزیز کوکا نے جہانگیر کے بیٹے خسرو کو بغاوت پر آمادہ کرکے اسے شہنشاہ کے مقابل لا کھڑا کیا۔ اس وقت بھی سلیمہ بیگم ہی تھیں، جو جہانگیر سے مرزا کوکا اورخسرو کے لیے معافی حاصل کرسکی تھیں، تاہم بعد میں خسرو کو نابینا کردیا گیا تھا۔

مغل محل سرا کی یہ بے مثال خاتون 1613 میں انتقال کرگئیں، سلیمہ خاتون کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق مندارکر گارڈن میں کی گئی۔ اپنی سوتیلی ماں کی وفات پر شہنشاہ جہانگیر نے انہیں کچھ اسطرح خراجِ تحسین پیش کیا کہ علم و ادب اور ذہانت کا ایسا مجموعہ کسی خاتون میں شاذو نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے اور سلیمہ سلطان ان تمام اوصاف سے مزین تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں