پاکستان کے آل راؤنڈر سلمان علی آغا کے خلاف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ایکشن لے لیا۔
بنگلادیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے دوران سلمان آغا کو آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے لیول ون کی خلاف ورزی کرنے پر باضابطہ طور پر سرزنش کی گئی ہے۔
سلمان کو پلیئرز اور پلیئر سپورٹ پرسنل کے لیے آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.2 کی خلاف ورزی کا قصوروار پایا گیا ہے جس کا تعلق بین الاقوامی میچ کے دوران کرکٹ کے سامان یا کپڑوں، گراؤنڈ آلات، یا فکسچر اور فٹنگ کے غلط استعمال سے ہے۔
سرزنش کے علاوہ ان کے تادیبی ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ کا اضافہ کیا گیا ہے، یہ 24 ماہ کی مدت میں ان کے دوسرے جرم کی نشاندہی کرتا ہے جس سے ان کے کل ڈیمیرٹ پوائنٹس دو ہو گئے ہیں۔
ان کا پچھلا اقدام بھی رواں سال 13 مارچ کو ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے کے دوران آرٹیکل 2.2 کے تحت آیا تھا۔
یہ واقعہ پاکستان کی دوسری اننگز کے 82ویں اوور میں پیش آیا جب سلمان کے آؤٹ ہونے کے بعد پویلین واپس جاتے ہوئے اپنے بلا اشتہاری بورڈ پر مارا۔
سلمان علی آغا آؤٹ ہونے کے بعد شدید غصے میں نظر آئے، جہاں وہ اشتہاری بورڈ پر شاٹ مارتے دکھائی دیے
ان کی باڈی لینگویج واضح بتا رہی تھی کہ وہ اپنی وکٹ ضائع ہونے پر کتنے مایوس تھے
پاکستان کے لیے اس وقت ان کی وکٹ میچ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی تھی #PAKvBAN #cricket… pic.twitter.com/c29KL1z8Dp— Urooj Jawed🇵🇰 (@uroojjawed12) May 19, 2026
سلمان نے جرم کا اعتراف کیا اور باضابطہ سماعت کی ضرورت سے گریز کرتے ہوئے ایمریٹس آئی سی سی ایلیٹ پینل آف میچ ریفریز کے جیف کرو کی تجویز کردہ منظوری کو قبول کیا۔
یہ الزام آن فیلڈ امپائر رچرڈ کیٹلبرو اور اللہ الدین پالیکر کے ساتھ تھرڈ امپائر کمار دھرماسینا اور چوتھے امپائر مسعود الرحمان مکل نے لگایا تھا۔
واضح رہے کہ لیول 1 کی خلاف ورزی پر ایک یا دو ڈیمیرٹ پوائنٹس کے ساتھ کم از کم آفیشل سرزنش اور کھلاڑی کی میچ فیس کا زیادہ سے زیادہ 50 فیصد جرمانہ ہوتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


