The news is by your side.

Advertisement

سلمان احمد کو پولیو کے خاتمے کی امید

معروف گلوکار سلمان احمد نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان بہت جلد پولیو سے پاک ملک بن جائے گا۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک گانا بھی شیئر کیا جو انہوں نے سنہ 2012 میں انسداد پولیو مہم کے فروغ کے لیے بنایا تھا۔

اپنے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ رواں سال پاکستان میں 19 پولیو کیسز منظر عام پر آئے جو اب تک پولیو کیسز کی سب سے کم تعداد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بہت جلد پولیو سے پاک ملک بنا کر تاریخ رقم کریں گے۔

واضح رہے کہ سنہ 2014 پاکستان میں پولیو وائرس کے حوالے سے ایک بدترین سال تھا جب ملک میں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 306 تک جا پہنچی تھی۔ یہ شرح پچھلے 14 سال کی بلند ترین شرح تھی جس کے بعد پاکستان پر سفری پابندیاں بھی عائد کردی گئیں تھی۔ اسی سال پڑوسی ملک بھارت پولیو فری ملک بن گیا۔

تاہم حکومتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے چلائی جانے والی آگاہی مہمات کا مثبت نتیجہ نکلا اور ان 2 سالوں میں پولیو کیسز کی تعداد میں ڈرامائی تبدیلی آئی۔ سنہ 2015 میں ملک میں پولیو کیسز کی تعداد گھٹ کر 54 جبکہ رواں سال مزید گھٹ کر 19 ہوگئی۔

سلمان احمد انسداد پولیو کے لیے اقوام متحدہ کے خیر سگالی سفیر بھی ہیں اور وہ اس سے قبل مرحوم اسکالر جنید جمشید، کرکٹر شاہد آفریدی، جاوید میانداد اور معروف صحافی ریحام خان کو بھی اس مشن کی تکمیل کے لیے شامل کرچکے ہیں۔

polio-3

polio-post-1

polio-post-2

انہوں نے 4 سال قبل انسداد پولیو مہم کے لیے کی جانے والی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے سنہ 2012 میں ایک گانا بھی بنایا تھا جس میں وہ غالب کی شاعری کے ذریعہ دنیا کو اس وائرس کے خلاف پاکستان کی طویل جدوجہد کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل یونیسف نے بھی انسداد پولیو کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے پولیو کے مرض کے خاتمے کے لیے بھرپور اور نہایت منظم اقدامات اٹھائے ہیں جن کو دیکھتے ہوئے امید ہے کہ رواں سال کے اختتام تک پاکستان سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہوجائے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق صرف پاکستان اور افغانستان دنیا کے 2 ایسے ممالک ہیں جہاں اکیسویں صدی میں بھی پولیو وائرس موجود ہے۔

overcoming all challenges by Salman Ahmad from Adnan Maqbool on Vimeo.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں