The news is by your side.

Advertisement

سلمان مجاہد کے سنگین الزامات کی بلدیہ افسران نے تردید کردی

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ کے خط میں شامل دو بلدیہ افسران نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے سلمان مجاہد کیخلاف قانونی کارروائی کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ کی جانب سے ڈی جی رینجرز کو لکھے جانے والے خط نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔

اے آر وائی نیوز نے خط میں شامل بلدیہ افسران آصف بیگ اورشاہنواز بھٹی کو ڈھونڈ نکالا۔ سرکاری افسران نے تمام الزامات کی سختی سے تردید کردی۔

سلمان مجاہد نے ڈی جی رینجرز کو لکھے گئے خط میں سانحہ بلدیہ فیکٹری اہم انکشافات کیے تھے، اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بلدیہ افسر آصف بیگ نے دعویٰ کیا واقعہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔

سلمان مجاہد بلوچ نے مجھے فون پر جان سے مارنے اور سانحہ بلدیہ فیکٹری میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دیں تھیں جس کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔

دوسرے افسرشاہنوازبھٹی نے کہا کہ میں سانحہ کے وقت معطل تھا، الزامات پرحیران ہوں، اگر ملوث ہوتا تو اپنی سیٹ پر نہ ہوتا، انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی عزت بچانے کیلئے قانونی کارروائی کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔


مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ،سرکاری افسران سہولت کار تھے، سلمان مجاہد کا ڈی جی رینجرزکوخط


واضح رہے کہ ڈی جی رینجرز کو لکھےگئے سلمان مجاہد کے خط میں کہا گیا تھا کہ بلدیہ فیکٹری کو آگ لگانے میں چار سرکاری افسروں نےسہولت کاری کی۔

خط کے مطابق اکمل صدیقی، مرزا آصف بیگ، امیرعلی قادری اور شاہنوازبھٹی سیکٹرانچارج رحمان بھولا سےرابطے میں تھے۔

سلمان مجاہد بلوچ نے لکھا کہ شاہنوازبھٹی نے رحمان بھولا کی ہدایت پر فیکٹری کی مشینری منتقل کی، چاروں افسران تحقیقات کے دوران فرار ہوگئےتھے جو بعد ازاں دوبارہ بلدیہ ٹاؤن زون میں واپس آگئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں