The news is by your side.

Advertisement

نیب افسر کی اہلیہ کا بیوٹی پارلر کی مالکن اور عملے پر مبینہ تشدد

کراچی: بیوٹی پارلر کی مالکن نے دعویٰ کیا ہے کہ نیب کے افسر کی اہلیہ نے جیولری گم ہونے پر بیوٹی پارلر کے عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے ۔

بیوٹی پارلر کی مالکن حیا علی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بتایا کہ نیب کے اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر اوساف میئر تالپوڑ اور ان کی اہلیہ کے حکم پر نیب کے افسر پولیس موبائل لیکر بیوٹی پارلر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور عملے کو بھی حراساں کیا۔

حیا علی نے بتایا کہ یہ واقعہ منگل کی شام کو پیش آیا جب ان کی کسٹمر حنا خان نے انہں فون کر کے بتایا کہ ان کی جیولری گم ہوگئی ہے ، جس کے جواب میں پارلر کی مالکن کا کہنا تھا کہ کسی بھی چیز کی گمشدگی پر عملہ اور سیلون کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ۔

انہوں نے بتایاکہ وہ تلاش کیلئے سب کچھ کریں گی اور اسٹاف بھی تلاش کرے گا لیکن وعدہ نہیں کرتی ۔ اگر آپ کی چین نہ ملی تو ہماری ذمہ داری نہ ہوگی کیونکہ وہ بھولی تھیں اور میں نے استقبالیہ پر ہی لکھ رکھاہے کہ کوئی بھی چیز کھوجانے کی صورت میں سیلون ذمہ دار نہیں ہوگااور ہر کسٹمر کو اپنی چیزوں کی حفاظت کرنا ہوگی، جس پر حنا خان نامی کسٹمر غصہ میں آگئیں اور ملازمین کو مورد الزام ٹھہراناشروع کردیا۔

Video 1/4 that i had my worker record from her phone. Notice how she says “Baat karne say pehlay ye dekh liya karo samnay walaa banda koi bhi nikal sakta hai.” Matlab how proud is she to have the COUNTRY’S AUTHORITIES support her wrong doings. And yes, this is how i remained throughout our conversation. :)This psychotic woman’s name is HINA KHAN, ICYMI.

Posted by Haya Ali on Wednesday, April 6, 2016

پارلر کی مالکن حیا علی کی والدہ شگفتہ اعجاز نے بتایا کہ نیب افسر اور اہلکاروں نے بیوٹی پارلر میں توڑ پھوڑ بھی کی، نیب افسر کی اہلیہ نے بیوٹی پارلر پر ہار لاپتہ ہونے کا الزام لگایا تھا، نی افسر امیر اوصاف نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بیوٹی پارلر میں توڑ پھوڑ کی، جبکہ نیب افسر نے بیوٹی پرلر کے گارڈ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا،سیکورٹی گارڈ سے اسلحہ بھی چھینا گیا، تین روز گزر جانے کے باوجود شارع فیصل پولیس نے رپورٹ درج نہیں کی۔

شگفتہ اعجاز کا کہنا تھا کہ میرے شوہر پر دباؤ ڈال کر صلح نامے پر زبر دستی دستخط کرائے گئے میں ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنا چاہتی ہوں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

Video 2/4 CCTV footage that shows how brutally Hina Khan’s husband and his men claiming to be police officers (but dressed in civilian attire) attacked my guard and snatched his gun and cellphone. They also broke the intercom so that he couldn’t warn us upstairs. These men went into the salon ALL ARMED, scaring and harassing the girls and clients. Hina forcefully entered the salon premises again with the help of these men after she was escorted out by me.

Posted by Haya Ali on Wednesday, April 6, 2016

انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے پارلر میں داخل ہوکر میری بیٹی کو تھپڑ مارے، میرے کلائنٹس اور خواتین عملے کو ہراسہ کیا گیا۔ پولیس نیب افسران کے دباؤ میں ہے ہمارا مقدمہ درج نہیں کیا جارہا ۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے ہمراہ زین العابدین نامی پولیس افسر نے توڑ پھوڑ کی ، حملہ آور نے پارلر کے پراوئیوٹ برائڈل رومز میں بھی داخل ہوکر بدتمیزی کی۔

افسر نے عہدے کا ناجائز فائدہ اور بغیر نام اور نمبر پلیٹ کے پولیس موبائل استعمال کرنے والوں کے خلاف کروائی ہونی چاہیئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں