دانتوں کی تکلیف اب ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے جو بچوں سے لے کر بڑوں تک سب کو متاثر کرتا ہے۔ ناقص خوراک، میٹھے کھانے، منہ کی صفائی میں لاپرواہی اور بیکٹیریا کی افزائش اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
ابتدا میں دانتوں کے کیڑے چھوٹے سیاہ دھبوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ دانت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں، جس سے شدید درد اور سوجن جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ اس پریشانی سے نجات کے لیے کچھ قدرتی اور گھریلو علاج بے حد مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں چند آسان طریقے جن سے دانتوں کے کیڑے ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے
لہسن : قدرتی اینٹی بایوٹک
لہسن اپنے اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات کی وجہ سے دانتوں کے کیڑے ختم کرنے میں نہایت مؤثر ہے۔
ایک یا دو جوے کچا لہسن چبا لیں، اس کا پیسٹ بنا کر متاثرہ دانت پر لگائیں۔ یا پھر لہسن کو کپڑے میں لپیٹ کر دانت پر رکھیں، فوری آرام محسوس ہوگا۔
لونگ : صدیوں پرانا آزمودہ نسخہ
لونگ میں قدرتی اینٹی سیپٹک اجزاء موجود ہوتے ہیں جو دانتوں کے درد کو کم کرتے اور جراثیم کا خاتمہ کرتے ہیں۔
روئی کی مدد سے لونگ کے تیل کو متاثرہ دانت پر لگائیں۔ اگر تیل دستیاب نہ ہو تو ایک لونگ چبا کر اس کا عرق متاثرہ جگہ پر لگائیں۔ گرم پانی میں لونگ ڈال کر کلی کرنے سے بھی افاقہ ہوتا ہے۔
ناریل کا تیل : دانتوں کا محافظ
ناریل کے تیل میں موجود قدرتی اجزاء دانتوں کو بیکٹیریا سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ایک چمچ ناریل کا تیل 10 سے 15 منٹ منہ میں گھمائیں، پھر تھوک دیں۔ یا روئی میں تیل لگا کر متاثرہ دانت پر رکھیں۔ اسے روزانہ برش سے پہلے استعمال کریں تاکہ دانت صاف اور مضبوط رہیں۔
نمکین پانی : آسان مگر مؤثر علاج
نمکین پانی کا غرارہ منہ میں موجود بیکٹیریا ختم کرتا ہے اور سوجن کم کرتا ہے۔ نیم گرم پانی میں ایک چمچ نمک شامل کریں۔ دن میں دو سے تین بار کلی کریں۔ یہ طریقہ دانتوں کے ساتھ ساتھ مسوڑھوں کی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔
یاد رکھیں :
یہ گھریلو نسخے وقتی طور پر آرام پہنچا سکتے ہیں، لیکن اگر دانتوں کا کیڑا بڑھ جائے یا درد شدید ہو تو فوراً اپنے معالج سے رجوع کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔


