The news is by your side.

Advertisement

“مغربی بنگال میں بی جے پی کی شکست سیکولرازم کی فتح”

کلکتہ: سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی اور مہاراشٹر یونٹ کے صدر نے مغربی بنگال میں مرکزی حکومت کی ناکامی کو ہندو مسلم انتشار اور نفرت انگیزی کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ قرار دے دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی اور مہاراشٹر یونٹ کے صدر ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی شکست دراصل سیکولرزم کی جیت ہے، کرونا وبا کے دوران مرکزی حکومت کی ناکامی سے پریشان عوام نے مغربی بنگال میں اسے سبق سکھا دیا ہے۔

ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ بی جے پی ہمیشہ سے نفرت کی سیاست کرتی آئی ہے او اس نے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کیا ہے اس لیے مغربی بنگال کے عوام نے اسے خارج کردیا ہے،مغربی بنگال میں بی جے پی کی شکست سیکولرزم کی جیت کے مترادف ہے کیونکہ عوام نے مذہب، ذات پات اور فرقہ پرستی سے ہٹ کر کر ووٹ دیا ہے اور یہ نتائج بی جے پی کی ہندو مسلم انتشار اور نفرت انگیزی کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے۔

سماجوادی پارٹی رہنما ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ مغربی بنگال میں ٹی ایم سی واضح اکثریت حاصل کر کے مسلسل تیسری بار حکومت بنانے جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مغربی بنگال الیکشن: کتنے مسلم امیدوار انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئے؟ جانئے حیران کن اعداد وشمار

دوسری جانب بھارتی ریاست مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں کئی مسلم امیدواروں نے فتح حاصل کرلی ہے، بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں کل 303 مسلم امیدوار میدان میں تھے جن میں سے 41 امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

موجودہ وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی کی پارٹی ترینمول کانگریس نے 3 مسلم خواتین امیدوار اور 40 مسلم مرد امیدوار کو اسمبلی الیکشن کے لیے نامزد کیا تھا، جن میں سے 41 امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں