ممبئی(15 اپریل 2026): مشہور بھارتی کامیڈین سمے رائنا اپنی غیر معمولی کامیابی اور بڑھتی ہوئی دولت کے باعث ان دنوں خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
‘کامکستان’ سیزن 2 کے فاتح کی حیثیت سے شہرت پانے والے سمے رائنا نے مختصر عرصے میں کامیڈی اور ڈیجیٹل دنیا میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے جس کے بعد ان کی دولت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں بطور کانٹینٹ کریئیٹر، یوٹیوبر اور اسٹینڈ اپ کامیڈین سمے نے تقریباً 140 کروڑ سے 215 کروڑ روپے کے درمیان دولت بنائی ہے۔
ان کی کامیابی میں اہم موڑ لاک ڈاؤن کے دوران آیا جب انہوں نے شطرنج کی لائیو اسٹریمنگ شروع کی، جس نے انہیں عالمی سطح پر مقبول بنا دیا۔ اس اسٹریمنگ کے ذریعے وہ اشتہارات اور ممبر شپ سے بھاری رقم کماتے ہیں۔
سمے رائنا کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ان کے اسٹینڈ اپ کامیڈی شوز بھی ہیں، جن کے ٹکٹ بھارت اور بیرون ملک ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی نامور برانڈز کے اشتہارات کا حصہ بھی ہیں، جس سے ان کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمے رائنا کی کامیابی کا راز ان کا منفرد انداز اور نوجوان نسل کے ساتھ جڑنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کامیڈی کو شطرنج اور گیمنگ جیسے شعبوں کے ساتھ ملا کر ایک نیا رجحان متعارف کرایا۔
جس نے انہیں ایک عام کامیڈین سے ایک کامیاب انٹرپرینیور بنا دیا ہے۔ آج وہ سوشل میڈیا پر لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک متاثر کن شخصیت بن چکے ہیں۔
گاڑیوں کے شوقین سمے رائنا کے پاس مشہور سیلیبریٹی گاڑی ٹوئٹا ویلفائر بھی ہے جس کی قیمت تقریباً 1.22 کروڑ بھارتی روپے یا اس سے زیادہ ہے۔
کامیڈین کے پاس فورڈ (تقریباً 90 لاکھ بھارتی روپے)، منی کوپر (تقریباً 45 لاکھ بھارتی روپے)، مرسڈیز بینز (تقریباً 1.1 کروڑ بھارتی روپے) اور ہونڈا سٹی (تقریباً 12 لاکھ بھارتی روپے) بھی موجود ہیں، ایسا لگتا ہے کہ انہیں گاڑیوں کا خاص شوق ہے۔
’میرے وکلاء کی فیس ادا کرنے کا شکریہ‘ سمے رائنا اسٹیج پر جذباتی ہوگئے
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


