The news is by your side.

Advertisement

سامیعہ قتل کیس : پولیس آٹھ روز بعد بھی معمہ حل نہ کرسکی

جہلم : سامیعہ قتل کیس آٹھ روز بعد بھی حل نہیں ہوسکا۔ مقتولہ سامیعہ کے سابق شوہر شکیل نے ضمانت قبل از گرفتار کروالی ہے، قتل کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی آ گئی جس کے مطابق سامیعہ کی گردن کےدائیں طرف زخم کانشان ہے۔ سامیعہ کے باقی جسم پر کسی قسم کا کوئی نشان نہیں ہے۔ ڈی پی او کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ کےبعد ہی کوئی نتیجہ نکلے گا۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی شہریت کی حامل خاتون سامیعہ کو قتل کیا گیا یا طبعی موت ہوئی، پولیس آٹھ روز بعد بھی قتل کا معمہ حل نہ کرسکی۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار کے نوٹس لینے پر پولیس کی متعدد ٹیمیں اصل حقائق تک پہنچنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں، ڈی پی او جہلم کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ کاانتظار ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سامیہ شاہد قتل کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی، انکوائری کمیٹی کےسربراہ ڈی آئی جی ابوبکرخدابخش ہوں گے۔ کمیٹی باہتر گھنٹے میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں قانون وانصاف کےتقاضے پورے کیے جائیں گے۔

ڈی پی او جہلم کا کہنا ہے کہ سامیعہ کے سابق شوہر شکیل کے دو قریبی عزیزوں کو بھی تفتیش کے لئے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس نے ہلاکت کے مقدمے میں مدعی سامیعہ کےدوسرے شوہر مختارکاظم کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔

مقتولہ کے دوسرے شوہر مختار کاظم نے الزام لگایا کہ سامعہ کو لندن سے والد کی بیماری کے بہانے بلایا گیا تھا میری بیوی کے والد اور سابق سسرالیوں نے مل کر قتل کیا۔ سامعہ اپنے پہلے شوہر سے لندن میں خلع لے چکی تھی۔

ذرائع کے مطابق سید مختار کاظم نامی شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی اہلیہ کو والدین کی مرضی کے بغیر شادی کرنے کی بناء پر پاکستان میں ”غیرت“ کے نام پر قتل کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی نژاد 28 سالہ بیوٹی تھراپسٹ سامیعہ شاہد منگلا ڈیم کے قریب واقع گاﺅں پنڈوری میں اپنے رشتے داروں سے ملاقات کیلئے آئی تھیں جہاں وہ وفات پاگئیں۔ واقعہ کے بعد برٹش رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ سامیعہ کی قبرکشائی کرکے ان کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے۔

علاوہ ازیں سامعہ کے ماں باپ، سابق شوہر سمیت 5 افراد کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لڑکی کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا۔

مزید تفتیش کیلئے جسم کے نمونے فرانزک لیب میں ٹیسٹ کیلئے بھیج دیئے گئے ہیں۔ جبکہ آر پی او راولپنڈی فخرسلطان راجا نے بھی منگلا کینٹ تھانے کے علاقے میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں