سامیعہ قتل کیس: تحقیقاتی ٹیم نے پہلے شوہراورسہیلی کا بیان قلمبند کیا -
The news is by your side.

Advertisement

سامیعہ قتل کیس: تحقیقاتی ٹیم نے پہلے شوہراورسہیلی کا بیان قلمبند کیا

جہلم : سامیعہ قتل کیس میں بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم جہلم پہنچ گئی۔ ٹیم نے سامیعہ کے پہلے شوہر اور سہیلی کا بیان قلمبند کیا، تحقیقاتی ٹیم نے سامیعہ قتل کیس کی تحقیقات شروع کردیں۔

تفصیلات کے مطابق جہلم میں مبینہ طورپرغیرت کے نام پر قتل ہونیوالی 28 سالہ پاکستان نژاد برطانوی خاتون سامیعہ کے حوالے سے ڈی آئی جی ابو بکر کی سربراہی میں بننے والی تین رُکنی ٹیم شواہد اکٹھے کرنے جہلم پہنچی۔

تحقیقاتی ٹیم نے برطانوی نژاد سامیعہ کے پہلے شوہر شکیل کا بیان ریکارڈ کیا ۔ شکیل نے بیان دیا کہ سامیعہ کی موت کے وقت وہ شہر سے باہر تھا۔ اسے اس واقعے کا علم نہیں۔

شکیل نے دعویٰ کیا کہ سامیعہ اب بھی اس کی بیوی تھی، شکیل کا کہنا تھا کہ سامیعہ کا دوسرے شوہر اور مدعی مختار کاظم کے پاس کاغذات جعلی ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم نے سامیعہ کی دوست عنبرین کا بیان بھی ریکارڈ کیا ۔ مختار کاظم کے مطابق سامیعہ نے پاکستان آکر اپنا پاسپورٹ اور دیگر ڈاکومنٹس اسی دوست کے پاس رکھوائے تھے۔ لیکن عنبرین نے تحقیقاتی ٹیم کو بیان میں اس بات کی تردید کردی۔

تحقیقاتی ٹیم نے مقامی تفتیشی افسران سے بھی واقعے پر بات کی۔ پولیس اب تک برطانوی نژاد خاتون کے قتل کا معمہ حل نہیں کر پائی۔

علاوہ ازیں اطلاعات کے مطابق مقتولہ کے والد نے الزامات سے انکار اورسامیعہ کی موت کوطبعی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس کیس کی مزید تحقیقات نہیں چاہتا۔

سامعہ کے شوہر نے پریس کانفرنس کے دوران مقتولہ کی گردن پر زخم کے نشانات کے شواہد بھی پیش کیے اور کہا کہ یہ طبعی موت نہیں بلکہ غیرت کے نام پر قتل ہے۔

دوسری جانب بی بی سی کے مطابق جہلم پولیس نے سامیعہ شاہد کے مبینہ قتل کے مقدمہ میں نامزد والدہ امتیاز بی بی اور بہن مدیحہ شاہد کو بے گناہ قرار دے دیا ہے اور کہا کہ جائے وقوعہ پر ان دونوں کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں