سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کی والدہ نے ملزم کو سزا ملنے کے بعد بڑا مطالبہ کردیا ہے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف قتل کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنائی اور 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
عدالت نے گھر میں گھسنے، ڈکیتی اور ثنا کا موبائل لے جانے پر بھی الگ الگ سزائیں سنائی ہیں۔
ملزم عمر حیات نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو دوستی نہ کرنے پر گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، غمزدہ والدین نے قاتل کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ پڑھیں: ثنا یوسف قتل کیس : ملزم عمر حیات کو سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا
والدہ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے سامنے پھول سے بچی کو گولیاں ماری گئیں معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی بھی بیٹی کا واقعہ یاد آتا ہے کہ دل پھٹ جاتا ہے، میں مر جاؤں گی بیٹی کے قاتل کو معاف نہیں کروں گی۔
مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ میں گھر میں موجود تھی مجرم عمر حیات نے بیٹی کو سینے پر گولیاں ماریں، میری بیٹی کا دوستی سے منع کرنا جرم بن گیا۔
والد نے کہا کہ قاتل کی سزا پر عملدرآمد بتائے گا کہ یہ انسانوں کا معاشرہ ہے۔


