اسلام آباد : گزشتہ سال قتل ہونے والی 17سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قاتل کو سزائے موت کا سن کر مقتولہ کے والد بھی اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکے۔
بیٹی کے قاتل کو سزا سنائے جانے کے بعد احاطہ عدالت میں وہ اور ان کی اہلیہ فرزانہ یوسف نہایت افسردہ نظر آئے۔
ثنا یوسف کے والد سید یوسف حسن نے کہا کہ یہ کیس میں نے اس لیے لڑا کہ میں چاہتا ہوں سب کی بیٹیاں محفوظ رہیں، سزا پر عمل درآمد بتائے گا کہ یہ انسانوں کا معاشرہ ہے۔
اس سے قبل ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قاتل کو سزائے موت کا فیصلہ سن کر مقتولہ کی والدہ فرزانہ کمرہ عدالت میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں، ان کا کہنا تھا کہ مجھے انصاف مل گیا مگر آج میری بیٹی بہت یاد آرہی ہے۔
احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثنا کی والدہ نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ سنا دیا آپ سب لوگوں کا بہت شکریہ۔
واضح رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں الزام ثابت ہونے پر مجرم عمر حیات کو سزائے موت کا حکم سنا دیا اور مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 21 سال قید اور 25 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔
عدالت کی جانب سے سزائے موت کے فیصلے کے بعد پولیس اہلکار مجرم کا سر کپڑے سے ڈھانپ کر وہاں سے اڈیالہ جیل کے لیے روانہ ہوگئے۔
یاد رہے کہ 2 جون 2025 کو ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو اسلام آبادمیں ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں ملزم کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا گیا تھا، مقدمے میں مجموعی طور استغاثہ کے 27 گواہ پیش ہوئے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


