پیر, جون 8, 2026
اشتہار

ثنا یوسف قتل کیس میں نیا موڑ : ملزم عمر حیات کا اعترافی بیان ماننے سے انکار

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات نے اعترافی بیان ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا میں نے نہ قتل کیا نہ کوئی جرم کیا۔

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت کے دوران مرکزی ملزم عمر حیات نے اپنے وکیل کی موجودگی میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت حتمی بیان ریکارڈ کروا دیا۔

ملزم نے صحتِ جرم سے صاف انکار کرتے ہوئے پولیس اور پراسیکیوشن پر شدید الزامات عائد کیے ہیں۔

اپنے بیان میں ملزم عمر حیات نے مؤقف اختیار کیا کہ میری عمر 23 سال ہے اور میرا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ کبھی اسلام آباد آیا۔

ملزم کا کہنا تھا، "ہم دونوں مشہور ٹک ٹاکرز ہیں، ثنا یوسف کے فالوورز نے سوشل میڈیا پر پولیس پر شدید دباؤ ڈالا جس کے بعد پولیس نے سیاسی اور فالوورز کے پریشر میں آ کر مجھے شک کی بنیاد پر 3 جون کو جڑانوالہ میں میرے گھر سے گرفتار کیا”۔

ملزم نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے پراسیکیوشن کے کیس کو مضبوط بنانے کے لیے رینٹ اے کار کا جعلی ایگریمنٹ تیار کیا، جبکہ اس گاڑی یا رینٹ آفس کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔

ملزم حیات کا کہنا تھا کہ وہ گاڑی کے مالک یا ڈرائیور کو جانتا تک نہیں، ان کے بیانات زبردستی دلوانے کے ساتھ ساتھ مقتولہ کا موبائل فون چوری ہونے کا جھوٹا قصہ بھی بعد میں گھڑا گیا۔

ملزم نے وقوعہ کو ‘اندھا قتل’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹ اور پولیس کی کہانی میں واضح تضاد ہے۔

عمر حیات نے انکشاف کیا کہ گرفتاری کے بعد اسے تھانے لایا گیا جہاں مقتولہ کی فیملی پہلے سے موجود تھی، پولیس نے خود میری ویڈیوز بنا کر وائرل کیں اور ثنا یوسف کے والدین کو زبردستی کہا کہ ‘یہ آپ کا ملزم ہے’۔

ملزم نے الزام لگایا کہ تھانے میں اس پر شدید تشدّد کیا گیا، قتل قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور 7 خالی صفحات پر زبردستی دستخط کروائے گئے۔

عدالت میں موجود تفتیشی کا تیار کردہ اعترافی بیان جھوٹا ہے، مجھے نہیں معلوم اس میں کیا لکھا گیا ہے۔ شناخت پریڈ کے وقت بھی تحفظات لکھوائے تھے مگر وہ ریکارڈ کا حصہ نہیں بننے دیے گئے۔

ملزم نے دہرایا کہ ثنا یوسف کے ساتھ اس کا کبھی کوئی جھگڑا یا رابطہ ہی نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کبھی ملنے کی درخواست کی تھی۔

ملزم عمر حیات نےاعترافی بیان ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا مجھے پتہ ہی نہیں ہے اعترافی بیان ہے کیا، قتل کا اعترافی بیان میرا ہے ہی نہیں۔

ملزم عمر حیات کا دفعہ 342 کا بیان مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اہم ترین

مزید خبریں