اسلام آباد (17 فروری 2026): سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے پارٹی ورکر صنم جاوید کے مبینہ اغوا سے متعلق اہم بیان دے دیا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صنم جاوید دو ماہ تک خیبر پختونخوا ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس میں موجود رہیں، وہ مجھے بتائے بغیر گھومنے چلی گئیں، سکیورٹی نہ ہونے پر ان کو اغوا کیا گیا اور الزام مجھ پر لگایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اغوا کا مقدمہ میں نے درج کروایا تھا جس میں ان کی سہیلی کا نام بھی ہے، صنم جاوید جس سہیلی کے ساتھ گھومنے گئیں اس کا نام نہ بتانے پر غلط رنگ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: صنم جاوید کی بہن کی بازیابی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو چاہیے پہلے تحقیق کر کے رائے قائم کریں، بغیر تحقیق رائے قائم کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2025 میں پی ٹی آئی ورکر صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ اُس وقت کے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
ترجمان وزیر اعلیٰ کے پی نے بتایا تھا کہ مقدمہ ایڈووکیٹ حرا بابر کی مدعیت میں تھانہ شرقی میں درج کیا گیا، علی امین گنڈاپور نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔
سابق وزیر اعلیٰ کے پی نے ہدایت کی تھی کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


