The news is by your side.

Advertisement

نواب ثنااللہ زہری – پیدائش سے استعفے تک

کوئٹہ: بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری آج اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں‘ انہوں نےعبدالقدوس بزنجو اورسیدآغامحمدرضا کی جانب سے اپنے خلاف پیش ہونے والی تحریکِ عدم اعتمادکے سبب استعفیٰ دیا۔

نواب ثنا اللہ زہری کا تعلق بلوچستان کے زہری قبیلے سے ہیں ‘ وہ ضلع خضدار کے علاقے انجیرا میں 4 اگست 1961 کو پیدا ہوئے ۔ ان کے والد سردار ڈوڈا خان زہری تحریکِ پاکستان کے متحرک رہنما اور اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ بلوچستان میں تحریکِ پاکستان کے سلسلے میں ان کا اہم کردار ہے۔

سابق وزیراعلی ٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے سنہ 1983 میں بلوچستان اسمبلی سے پولیٹیکل سائنس میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔

ثنا اللہ زہری مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے سنہ 1990 میں بلوچستان اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے‘ جبکہ سنہ 1997 میں سینٹ انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے سنہ1999 تک بلوچستان کی نمائندگی کرتے رہے۔

سنہ 2002 میں انہوں نے نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا اورمنتخب ہوکر وزیر برائے جیل خانہ جات اور قبائلی امور کے عہدے پر سنہ 2003اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔سنہ 2008 میں نیشنل پارٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جس سے اختلاف کرتے ہوئے انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا اور فاتح قرار پائے۔

وزیراعلیٰ‌ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا

خان آف قلات میر سلیمان داؤد جان نے اکبر بگٹی کی موت کے بعد لویہ جرگہ منعقد کیا تو اس میں انہوں نے اپنے قبیلے کی نمائندگی بھی کی۔

چھ جنوری 2010 کو ثنا اللہ زہری ایک بار پھر پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے اور اگست 2011 میں انہیں پارٹی کے صوبائی ونگ کا نائب سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔

مئی 2013 میں منعقد ہونے والے عام انتخابا ت میں انہوں نے اپنی نشست کا دفاع مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے کیا اور وہ اس وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے لیے اپنی جماعت میں مضبوط ترین امیدوار تھے تاہم اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالمالک کو وزیراعلیٰ بلوچستان نامزد کیا۔

انہی انتخابات کی الیکشن مہم کے دوران ان کے قافلے پرخضدار میں ایک بم حملہ بھی ہوا جس میں ثنا اللہ زہری بال بال بچے تاہم ان کا بیٹا سکندر زہری‘ بھائی میر مہر اللہ زہری اور بھتیجا میر زید مارے گئے۔ حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی تھی۔

جون 2013 میں صوبائی اسمبلی کی تشکیل کے بعد انہیں صوبے کا سینئر وزیر نامزد کیا گیا اور وہ اس عہدے پر 24 دسمبر 2015 تک کام کرتے رہے۔ دسمبر 2015 میں ایک معاہدے کے تحت ڈاکٹر عبدالمالک وزیر اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہوگئے اور ان کی جگہ نواب ثنا اللہ زہری نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور اس عہدے پر آج نو جنوری 2018 تک فائز رہے۔

تحریک ِ عدم اعتماد


دو جنوری 2018 کو صوبے کے مسائل حل نہ ہونے کے سبب مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو اور ایم ڈبلیو ایم کے سیدآغامحمدرضا نے 14سیکرٹری بلوچستان اسمبلی کے پاس وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی درخواست پرق لیگ، جمعیت علمائے اسلام سمیت 14ارکان کے دستخط موجود تھے۔تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میرعبدالقدوس بزنجو نے کہا تھا کہ زشتہ بجٹ میں ہمارے تحفظات تھے جنہیں دور نہیں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں مسلم لیگ ن کاحصہ ضرور ہوں، غلام نہیں، پارٹی میں جمہوریت ہے، میں اختلاف سامنے رکھ سکتا ہوں، بہت سےدیگرارکان نے ووٹنگ کےدن ساتھ دینےکا یقین دلایا ہے۔

اس ساری صورتحال کے پیش ِنظر مسلم لیگ ن کے موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی بلوچستان پہنچے اور پارٹی کے صوبائی ارکانِ اسمبلی سمیت کئی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کرتے رہے تاہم صورتحال بس سے باہر دیکھ کر انہوں نے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کو عہدے سے مستعفی ہونے کا مشورہ دیا جس کے بعد آج نو جنوری 2018 کو انہوں نے اپنا استعفیٰ گورنر بلوچستان محمود خان اچکزئی کو بھجوادیا ‘ جسے منظور کرلیا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں