The news is by your side.

Advertisement

شراب کی بلیک میں فروخت کےتانےبانے سانگھڑ جونیجو خاندان سے نکل آئے

کراچی : شراب کی بلیک میں فروخت کےتانےبانے سانگھڑ جونیجو خاندان سے نکل آئے، پیپلز پارٹی کےایم این اےروشن جونیجو کو بھی بطور ملزم نامزد کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقامی عدالت میں سفارتی استثنی کی آڑ میں شراب کی اسمگلنگ کیس کی سماعت ہوئی ، جس میں بتایا گیا کہ شراب کی بلیک میں فروخت کےتانےبانےسانگھڑجونیجو خاندان سےنکل آئے اور پیپلز پارٹی کےایم این اےروشن جونیجو کو بھی بطور ملزم نامزد کردیا گیا ہے۔

عدالت نےایم این اے روشن جونیجو کو شامل تفتیش کرنےکی ہدایت کردی جبکہ اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کسٹم نےعبوری چالان عدالت میں جمع کرادیا، جس میں کہا گیا کہ سرکاری کار 2014 میں وزیراعلی کےسابق مشیر اصغر جونیجو کودی گئی، اب یہ گاڑی کس کے زیراستعمال ہےسندھ حکومت کا بتانے سے گریزاں ہیں۔

چالان میں کہا گیا کہ ملزمان نےشراب کےکنٹینرکیساتھ پولیس اسکواڈلگایا ،پولیس اسکواڈلگاکرکنٹینر کوحیدر آبادٹول پلازہ کراس کرنیکی کوشش کی گئی اور بتایاگیا سرکاری کارسےروشن جونیجو کےگاوں پانی ،خوراک پہنچائی جا رہی ہے۔

چالان کے مطابق آئی جی سندھ کی ہدایت پرڈی آئی جی حیدرآبادکی رپورٹ مکمل ہو چکی، رپورٹ کےمطابق پولیس اہلکارغیرقانونی سرگرمی میں ملوث پائے گئے۔

چالان میں کہا گیا کہ ملزمان ڈپلومیٹک اسثتنی کی آڑ میں شراب کی بلیک میں فروخت کرتے تھے، مذکورہ شراب23 اور 24 ستمبر کی درمیانی شپ اسمگل کی جا رہی تھی۔

ایم این اےروشن جونیجو، انکےبیٹےغیاث جونیجوبطورملزمان نامزد کردیا، جس کے بعد روشن جونیجو نےگرفتاری سے بچنےکیلئےضمانت حاصل کرلی۔

پولیس کانسٹیبل شعیب اورعرفان علی ، نوید یامین، روبینہ گیل،خرم دادو،خرم حسین نقوی ، محمد سہیل کلیئرنگ ایجنٹ و دیگر بھی بھی ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ کسٹم حکام نے6ہزارشراب کی بوتلیں برآمد کیں، مذکورہ شراب سفارتی استثنی کی آڑ میں اسمگل کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں