سانحہ اے پی ایس کی تحقیقاتی رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائے، سینیٹ -
The news is by your side.

Advertisement

سانحہ اے پی ایس کی تحقیقاتی رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائے، سینیٹ

اسلام آباد : وزارت دفاع کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کی مشترکہ تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کے حوالے کردی گئی ہے۔جس پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے مطالبہ کیا کہ یہ رپورٹ جلد از جلد منظر عام پر لائی جائے۔

تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس سینیٹر مشاہد حسین کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، اجلاس کے دوران سیکرٹری دفاع لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ محمد عالم خٹک نے بتایا کہ پاک افغان بارڈر پر سکیورٹی میکنزم کا نیا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جسے جلد حتمی شکل دیدی جائے گی ۔

جبکہ ملا فضل اللہ کی حوالگی کا معاملہ امریکی فوج اور افغان حکومت سے بارہا اٹھایا گیا ہے ، امریکی حکام کے مطابق ملا فضل اللہ پر متعدد بار ڈرون کے ذریعے کارروائیاں کی گئیں مگر وہ بچ نکلا۔

وزارت دفاع کے حکام کی جانب سے بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاک افغان بارڈر پر ایک سال میں 132بار سرحدی خلاف ورزیاں کی گئیں ، جن میں فائرنگ کے 127واقعات ، چار بار زمینی اور ایک بار فضائی خلاف ورزی ہوئی ، جس میں 18جوان شہید اور 15زخمی ہوئے۔

دریں اثناء بھارت کی جانب سے گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک لائنآف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی 247خلاف ورزیاں کیں جن میں 39شہری شہید اور 150سے زائد زخمی ہوئے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچا۔

آرمی پبلک سکول پشاور کے حوالے سے بتایا گیا کہ 147شہیدوں کے خاندان کے 471افراد کو عمرہ پر بھیجا گیا جبکہ 22خاندانوں کے بچوں کو مفت تعلیم دی جارہی ہے۔

77بچوں کو کیڈٹ کالج اور دس کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا گیا ہے ، صوبائی حکومت کی جانب سے 28کروڑ 60لاکھ روپے کی مالی معاونت کی گئی۔

دو اساتذہ کو بعد از مرگ ستارہ امتیاز اور 142 شہید طلباء کو ستارہ جرات سے نوازا گیا ، اسی طرح ملک بھر کے 121سکولوں کے نام شہید بچوں کے نام سے منسوب کئے جارہے ہیں ،

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں