The news is by your side.

Advertisement

سانحہ کوئٹہ : تحقیقاتی کمیشن کا فرانزک ٹیم اور نیکٹا سے معاونت کا فیصلہ

کوئٹہ : سانحہ کوئٹہ سے متعلق تشکیل دئیے گئے جوڈیشل تحقیقاتی کمیشن نے فرانزک ٹیم بلانے اور نیکٹا سے معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ بعض چیزیں خفیہ ہیں جنہیں پبلک نہیں کرسکتے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جستس فائز قاضی عیسیٰ پر مشتمل جوڈیشل تحقیقاتی کمیشن کی پہلی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ میں ہوئی، چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چھٹہ، آئی جی پولیس بلوچستان، ایف سی اور دیگر سول و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔

پہلے دن کی کارروائی میں بلوچستان حکومت کی جانب سے کمیشن کے سوالنامہ کا جواب داخل کرادیاگیا، کمیشن میں حکومتی جوابات پر تفصیلی بحث ہوئی۔

کمیشن نے بلال انور کاسی کی ٹارگٹ کلنگ کے جائے وقوعہ کے قریب ایف سی ناکہ سے متعلق جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فرنٹیئر کورکے نمائندے کومکمل معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

کمیشن نے ایڈووکیٹ بلال انور کاسی کی ٹارگٹ کلنگ کے جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کو خولوںکے فرنگ پرنٹس نہ لینے ، سول ہسپتال بم دھماکے کی نوعیت اورجائے وقوعہ کا فرانزک ٹیم سے معائنہ نہ کرانے پر پولیس پر برہمی کا اظہار کیا۔

کمیشن کی جانب سے استفسار کرنے پر پولیس حکام کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہے بعض چیزیں خفیہ ہیں جنہیں پبلک نہیں کرسکتے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ جماعت الحرار اور داعش نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کی، وزارت داخلہ کو اس حوالے سے خط لکھا دیا ہے۔

کمیشن نے ذمہ داری قبول کرنے والوں کی فون کالز سے متعلق تحقیقات نہ کرنے پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا، سپریم کورٹ کے جج فائز قاضی عیسیٰ نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن میں فریقین نہیں ہوتے مقصد صرف سچ تک پہنچنا ہوتا ہے ، حکومت وکلاء سب معاونت کریں تاکہ کمیشن اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکے، تحقیقات کمیشن کی اگلی سماعت کل منگل کو ہوگی۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں