The news is by your side.

Advertisement

سانحہ صفورہ کیس، بری ہونے والے ملزم کی عدم رہائی سے متعلق کیس کی سماعت

کراچی : سندھ ہائی کورٹ میں سانحہ صفورہ گوٹھ کیس میں بری ہونے والے ملزم نعیم ساجد کی عدم رہائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے ستاٰئیس اکتوبر تک رینجرزحکام سے تحریری جواب طلب کرلیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ کی عدالت میں سانحہ صفورہ گوٹھ میں رہائی پانے والے ملزم نعیم ساجد کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت میں وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ نعیم ساجد کو ملٹری کورٹ سے عدم ثبوت کی بناء پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن ابھی تک رہا نہیں کیا گیا۔

 

safoora-post-1

عدالت میں جیل سپریٹنڈنٹ کی جانب سے بھی تحریری جواب داخل کروادیا گیا کہ چودہ مئی دوہزار چودہ کو ملٹری کورٹ سے رہائی کے آڈر موصول ہو گئے تھے لیکن جسمانی طور پر حوالے نہیں کیا گیا۔

عدالت میں وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹ کی ایڈوکیٹ جرنل برانچ میں ہائی کورٹ کے بیلف کو رینجرز نے داخل نہیں ہونے دیا، بیٹے کی مسلسل حراست کے صدمے کے باعث والدہ کی حالت خراب ہو رہی ہے۔

عدالت نے وکیل صفائی کا مؤقف سنتے ہوئے رینجرز حکام سے ستائیس اکتوبر تک تحریری جواب طلب کرلیا ہے۔

safoora-post-2
یاد رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ صفورا کیس فوجی عدالت بھیجنے کیخلاف دائر درخواستیں مسترد کردیں تھیں ،فوجی عدالت بھیجنے کیخلاف درخواستیں سانحہ صفورہ کے سہولت کاروں ملزم نعیم ساجد ،سلطان قمراور حسین عمر صدیقی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

اس سے قبل فوجی عدالت سانحہ صفورہ میں ملوث ملزم سعد عزیز ، اے طاہر منہاس ، اظہر عشرت سمیت پانچ مجرموں کو سزا موت سنائی جا چکی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 13 مئی 2015 کو موٹرسائیکل سوار مسلح افراد نے اسماعیلی برادری کی بس میں خون کی ہولی کھیلی تھی، جس میں کم از کم 44 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں